حدیث ۱: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے، وہ تھوڑی بھی حرام ہے۔'' (2)
حدیث ۲: ابو داود ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے مسکر اور مفتر (یعنی اعضا کو سست کرنے والی، حواس کو کند کرنے والی مثلاً افیون) سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و بیہقی ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر نشہ والی چیز خمر ہے (یعنی خمر کے حکم میں ہے) اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص دُنیا میں شراب پیے اور اوس کی مداومت کرتا ہوا مرے اور توبہ نہ کرے، وہ آخرت کی شراب نہیں پیے گا۔'' (4)
حدیث ۴ـ: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ''ہر نشہ والی چیز حرام ہے، بیشک اﷲتعالیٰ نے عہد کیاہے کہ جو شخص نشہ پیے گا اوسے طینۃ الخبال سے پلائیگا۔'' لوگوں نے عرض کی، طینۃ الخبال کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ ''جہنمیوں کا پسینہ یا اون کا عصارہ (نچوڑ)۔'' (5)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ہے کہ طارق بن سوید رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے شراب کے متعلق سوال کیا حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے منع فرمایا۔ اونھوں نے عرض کی، ہم تو اوسے دوا کے لیے بناتے ہیں فرمایا: ''یہ دوا نہیں ہے، یہ تو خود بیماری ہے۔'' (6)