یہ اوس وقت ہے کہ دونوں شہادتیں ایک ساتھ گزریں اور اگر ایک شہادت گزری اور حاکم نے اوس کے مطابق حکم کر دیا، اب دوسری گزری تو دوسری باطل ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: چار گواہوں نے زنا کی شہادت دی تھی اور ان میں ایک شخص غلام یا اندھا یا نابالغ یا مجنون ہے یا اوس پر تہمت زنا کی حد قائم ہوئی ہے یا کافر ہے تو اوس شخص پر حد نہیں مگر گواہوں پر تہمت زنا کی حد قائم ہوگی۔ اور اگر ان کی شہادت کے بنا پر حدقائم کی گئی بعد کو معلوم ہوا کہ ان میں کوئی غلام یا محدود فی القذف وغیرہ ہے جب بھی گواہوں پر حد قائم کی جائے گی اور اوس شخص پر جو کوڑے مارنے سے چوٹ آئی بلکہ مر بھی گیا اس کا کچھ معاوضہ نہیں اور اگر رجم کیا بعد کو معلوم ہوا کہ گواہوں میں کوئی شخص ناقابل شہادت تھا تو بیت المال سے دیت دینگے۔ (2)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۰: رجم کے بعد ایک گواہ نے رجوع کی تو صرف اسی پر حدِ قذف جاری کرینگے اور اسے چوتھائی دیت دینی ہوگی اور رجم سے پہلے رجوع کی تو سب پر حدِ قذف قائم ہوگی اور اگر پانچ گواہ تھے اور رجم کے بعد ایک نے رجوع کی تو اس پر کچھ نہیں اور اون چار باقیوں میں ایک نے اور رجوع کی تو ان دونوں پر حدِ قذف ہے اور چوتھائی دیت دونوں ملکر دیں اگر پھر ایک نے رجوع کی تو اس اکیلے پر پوری چوتھائی دیت ہے اور اگر سب رجوع کر جائیں تو دیت کے پانچ حصے کریں، ہر ایک ایک ایک حصہ دے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۱۱: جس شخص نے گواہوں كا تزکیہ کیا(4) وہ اگر رجوع کرجائے یعنی کہے میں نے قصداً جھوٹ بولا تھا واقع میں گواہ قابل شہادت نہ تھے تو مرجوم (5)کی دیت اوسے دینی پڑے گی اور اگر وہ اپنے قول پر اڑا ہے یعنی کہتا ہے کہ گواہ قابل شہادت ہیں مگر واقع میں قابل شہادت نہیں تو بیت المال سے دیت دی جائے گی اور گواہوں پر نہ دیت ہے نہ حد قذف۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: گواہوں کا تزکیہ ہوا (7)اور رجم کردیا گیا بعد کومعلوم ہوا کہ قابل شہادت نہ تھے