Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
382 - 466
    مسئلہ ۴: تمادی عارض ہونے کے بعد چار گواہوں نے زنا کی شہادت دی تو نہ زانی پر حد ہے، نہ گواہوں پر۔ (1)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: گواہی دی کہ اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور وہ عورت کہیں چلی گئی ہے تو مرد پر حد قائم کرینگے۔ یوہیں اگر زانی خود اقرار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں وہ کون عورت تھی تو حد قائم کی جائے گی۔ اور اگر گواہوں نے کہا معلوم نہیں وہ کون عورت تھی تو نہیں۔ اور اگر گواہوں نے بیان کیا کہ اس نے چوری کی مگر جس کی چوری کی وہ غائب ہے تو حد نہیں۔ (2)(درمختار) 

    مسئلہ ۶: چار گواہوں نے شہادت دی کہ فلاں عورت کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے مگر دونے ایک شہر کا نا م لیا کہ فلاں شہر میں اور دو نے دوسرے شہر کا نام لیا۔ یا دو کہتے ہیں کہ اس نے جبراً زنا کیا ہے اور دو کہتے کہ عورت راضی تھی۔ یا دو۲نے کہا کہ فلاں مکان میں اور دو نے دوسرا مکان بتایا۔ یا دو نے کہا مکان کے نیچے والے درجہ میں زنا کیا اور دوکہتے ہیں بالاخانہ پر۔ یا دو نے کہا جمعہ کے دن زنا کیا اور دوہفتہ کا دن بتاتے ہیں۔ یا دو نے صبح کا وقت بتایا اور دونے شام کا۔ یا دو ایک عورت کو کہتے اور دو دوسری عورت کے ساتھ زنا ہونا بیان کرتے ہیں۔ یا چاروں ایک شہر کا نام لیتے ہیں اور چار دوسرے دوسرے شہر میں زنا ہونا کہتے ہیں اور جو دن تاریخ وقت اون چاروں نے بیان کیا وہی دوسرے چاربھی بیان کرتے ہیں تو ان سب صورتوں میں حد نہیں، نہ ان پر نہ گواہوں پر۔(3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷: مردو عورت کے کپڑوں میں گواہوں نے اختلاف کیا کوئی کہتا ہے فلاں كپڑا پہنے ہوئے تھا اور کوئی دوسرے کپڑے کا نام لیتا ہے۔ یا کپڑوں کے رنگ میں اختلاف کیا۔ یا عورت کو کوئی دبلی بتاتا ہے کوئی موٹی یا کوئی لمبی کہتاہے اور کوئی ٹھنگنی (4) تو اس اختلاف کا اعتبار نہیں یعنی حد قائم ہوگی۔(5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸: چارگواہوں نے شہادت دی کہ اس نے فلاں دن تاریخ وقت میں فلاں شہر میں فلاں عورت سے زنا کیا اور چار کہتے ہیں كہ اوسی دن تاریخ وقت میں اس نے فلاں شخص کو (دوسرے شہر کا نام لیکر) فلاں شہر میں قتل کیاتو نہ زنا کی حد قائم ہوگی نہ قصاص۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنیٰ...إلخ،ج۶،ص۵۱.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنی والرجوع عنھا،ج۶،ص۵۱.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب الخامس فی الشھادۃ علی الزناوالرجوع عنھا،ج۲،ص۱۵۲،۱۵۳.

4۔۔۔۔۔۔چھوٹے قدوالی۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب الخامس فی الشھادۃ علی الزناوالرجوع عنھا،ج۲،ص۱۵۳.
Flag Counter