Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
380 - 466
تواون عورتوں کا قول کس طرح اعتبار کریگا۔ یوہیں اگر عورتیں نہ کہیں مگر سُسرال والوں نے جس عورت کو اوس کے یہاں بھیج دیا ہے اُس میں بیشک یہی گمان ہوگا کہ اسی کے ساتھ نکاح ہوا ہے جبکہ پیشتر سے دیکھا نہ ہو اور بعض واقعے ایسے ہوئے بھی ہیں کہ ایک گھر میں دوبراتیں آئیں اور رخصت کے وقت دونوں بہنیں بدل گئیں اوس کی اوس کے یہاں اوسکی اس کے یہاں آگئی لہٰذا یہ اشتباہ ضرور معتبر ہوگا واﷲ تعالیٰ اعلم۔ 

    مسئلہ ۸: شبہہ عقد یعنی جس عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا اوس سے نکاح کرکے وطی کی مثلاً دوسرے کی عورت سے نکاح کیا یا دوسرے کی عورت ابھی عدّت میں تھی اوس سے نکاح کیا تو اگرچہ یہ نکاح نکاح نہیں مگر حد ساقط ہوگئی، مگر اسے سزا دی جائے گی۔ یوہیں اگر اوس عورت کے ساتھ نکاح تو ہوسکتا ہے مگر جس طرح نکاح کیا وہ صحیح نہ ہوا مثلاً بغیرگواہوں کے نکاح کیاکہ یہ نکاح صحیح نہیں مگر ایسے نکاح کے بعد وطی کی تو حد ساقط ہوگئی۔ (1)(درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۹: اندھیری رات میں اپنے بستر پر کسی عورت کو پایا اور اوسے زوجہ گمان کرکے وطی کی حالانکہ وہ کوئی دوسری عورت تھی تو حد نہیں۔ یوہیں اگر وہ شخص اندھا ہے اور اپنے بستر پر دوسری کو پایا اور زوجہ گمان کرکے وطی کی اگر چہ دن کا وقت ہے توحد نہیں۔ (2)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۰: عاقل بالغ نے پاگل عورت سے وطی کی یا اتنی چھوٹی لڑکی سے وطی کی، جس کی مثل سے جماع کیا جاتا ہو یاعورت سو رہی تھی اوس سے وطی کی تو صرف مرد پر حد قائم ہوگی، عورت پر نہیں۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۱: مرد نے چوپایہ سے وطی کی یا عورت نے بندر سے کرائی تو دونوں کو سزا دینگے اور اوس جانور کو ذبح کرکے جلادیں، اوس سے نفع اوٹھانا مکروہ ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۲: اغلام یعنی پیچھے کے مقام میں وطی کی تو اس کی سزا یہ ہے کہ اوس کے اوپر دیوار گرا دیں یا اونچی جگہ سے اوسے اوندھا کرکے گرائیں اور اوس پر پتھر برسائیں یا اوسے قید میں رکھیں یہاں تک کہ مرجائے یا توبہ کرے یا چند بار ایسا کیا ہو تو بادشاہ اسلام اوسے قتل کر ڈالے۔الغرض یہ فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے، اسی وجہ سے اس میں حد نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الدر المختار''،کتاب الحدود ،ج۶،ص۳۶۔۳۸،وغیرہ.

2۔۔۔۔۔۔''رد المختار''،کتاب الحدود،باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ،مطلب اذا استحل المحرم ...الخ، ج ۶،ص۴۰.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود، الباب الرابع فی الوطء ...الخ ج۲، ص ۱۴۹.

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ،مطلب فی وطء البھیمۃ، ج۶،ص۴۱.
Flag Counter