مسئلہ ۴: شبہہ جب محل میں ہو تو حد نہیں ہے اگرچہ وہ جانتاہے کہ یہ وطی حرام ہے بلکہ اگرچہ اس کو حرام بتاتا ہو۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شبہہ فعل اس کو شبہہ اشتباہ کہتے ہیں کہ محل تو مشتبہ نہیں، مگر اس نے اوس وطی کو حلال گمان کرلیا تو جب ایسا دعویٰ کریگا تو دونوں میں کسی پر حد قائم نہ ہوگی اگرچہ دوسرے کو اشتباہ نہ ہو، مثلاً (۱)ماں باپ کی لونڈی سے وطی کی یا(۲) عورت کو صریح لفظوں میں تین طلاقیں دیں اور زمانہ عدت میں اوس سے وطی کی خواہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دیں یا تین لفظوں سے۔ ایک مجلس میں یا متعدد مجلسوں میں۔(۳) یا اپنی عورت کی باندی یا(۴)مولیٰ کی باندی سے وطی کی یا (۵)مرتہن(2) نے اُس لونڈی سے وطی کی جو اس کے پاس گروی ہے یا(۶) دوسرے کی لونڈی اس لیے عاریۃً لایا تھا کہ اوس کو گروی رکھے گا اور اوس سے وطی کی یا(۷) عورت کو مال کے بدلے میں طلاق دی یا مال کے عوض خلع کیا، اُس سے عدت میں وطی کی یا(۸)ام ولد کو آزاد کردیا اور زمانہعدت میں اوس سے وطی کی، ان سب میں حد نہیں جبکہ دعویٰ کرے کہ میرے گمان میں وطی حلال تھی اور اگر اس قسم کی وطی ہوئی اور وہ کہتا ہے کہ میں حرام جانتا تھا اور دوسرا موجود نہیں کہ اوس کا گمان معلوم ہوسکے توجو موجود ہے، اوس پر حد قائم کی جائے گی۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: بھائی یا بہن یا چچا کی لونڈی یا خدمت کے لیے کسی کی لونڈی عاریۃً لایا تھایا نوکر رکھ کر لایا تھا یا اس کے پاس امانۃًتھی اوس سے وطی کی تو حد ہے اگرچہ حلال ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: نکاح کے بعد پہلی شب میں جو عورت رخصت کرکے اس کے یہاں لائی گئی اور عورتوں نے بیان کیا کہ یہ تیری بی بی ہے اس نے وطی کی بعد کو معلوم ہوا کہ بی بی نہ تھی تو حد نہیں۔(5)(درمختار)یعنی جبکہ پیشتر سے(6) یہ اوس عورت کو نہ پہچانتا ہو جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے اور اگر پہچانتا ہے اور دوسری عورت اس کے پاس لائی گئی