| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
ہاں اگراوس کے آزاد ہونے کے بعد وطی واقع ہوئی تو اب محصن ہوگئے۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: مرد کے زنا پر چار گواہ گزرے اور وہ کہتا ہے کہ میں محصن نہیں حالانکہ اس کی عورت کے اس کے نکاح میں بچہ پیدا ہوچکا ہے تو رجم کیا جائے گا اور بی بی ہے مگر بچہ پیدا نہیں ہوا ہے تو جب تک گواہوں سے محصن ہونا ثابت نہ ہولے رجم نہ کرینگے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳۴: مرتدہونے سے احصان جاتا رہتا ہے پھر اس کے بعد اسلام لایا تو جب تک دخول نہ ہو محصن نہ ہوگا۔ اور پاگل اور بوہراہونے سے بھی احصان جاتا رہتا ہے مگر ان دونوں میں اچھے ہونے کے بعد احصان لوٹ آئے گا اگرچہ افاقہ کی حالت میں وطی نہ کی ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: محصن ہونے کا ثبوت دومرد یا ایک مرد دوعورتوں کی گواہی سے ہوجائیگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: محصن رہنے کے لیے نکاح کا باقی رہنا ضرور نہیں، لہٰذا نکاح کے بعد وطی کرکے طلاق دیدی تو محصن ہی ہے، اگرچہ عمر بھر مجرد (5) رہے۔ (6)(درمختار)کہاں حد واجب ہے اور کہاں نہیں
ترمذی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جہاں تک ہوسکے مسلمانوں سے حدود دفع کرو (یعنی اگر حدود کے ثبوت میں کوئی شبہہ ہو تو قائم نہ کرو، اگر کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اوسے چھوڑ دو) کہ امام معاف کرنے میں خطا کرے، یہ اوس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرے۔'' (7)نیز ترمذی وائل بن حجر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے جبراً زنا کیا گیا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے اوس عورت پر حد نہ لگائی اور اوس مرد پر حد قائم کی جس نے اوس کے ساتھ کیا تھا۔(8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔'' الدر المختار''، کتاب الحدود ،ج۶،ص۲۵،وغیرہ. 2۔۔۔۔۔۔''البحر الرائق''، کتاب الحدود ،باب الشھادۃ علی الزنا ...الخ ،ج ۵،ص ۴۱. 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ ''، کتاب الحدود ،الباب الثالث فی کیفیۃ الحد، ج ۲،ص۱۴۵. 4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 5۔۔۔۔۔۔ یعنی شادی کے بغیر۔ 6۔۔۔۔۔۔''الدر المختار''،کتاب الحدود،ج ۶ ،ص ۲۸. 7۔۔۔۔۔۔''سنن الترمذی''،کتاب الحدود،باب ماجاء فی درء الحدود،الحدیث:۱۴۲۹،ج۳،ص۱۱۵. 8۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،باب ماجاء فی المرأۃاذااستُکرِھَت علی الزنا،الحدیث:۱۴۵۸،ج۳،ص۱۳۵.