اگر چہ یہ عیوب حکم رجم کے بعد پائے گئے تو رجم ساقط ہوجائیگا۔ یوہیں اگر زانی غیر محصن(1)ہو تو کوڑے مارنا بھی ساقط ہے اور گواہ مرگیا یا غائب ہوگیا تو دُرّے مارنے کی حد ساقط نہ ہوگی۔(2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۳: گواہوں کے بعد بادشاہ پتھر ماریگا پھر اور لوگ اور اگر زنا کا ثبوت زانی کے اقرار سے ہواہو تو پہلے بادشاہ شروع کرے اوس کے بعد اور لوگ۔(3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: اگر قاضی عادل فقیہ نے رجم کاحکم دیاہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ جو لوگ حکم دینے کے وقت موجود تھے وہی رجم کریں بلکہ اگرچہ ان کے سامنے شہادت نہ گزری ہو رجم کرسکتے ہیں اور اگر قاضی اس صفت کا نہ ہو تو جب تک شہادت سامنے نہ گزری ہو یا فیصلہ کی تفتیش کرکے موافقِ شرع نہ پالے اوس وقت تک رجم جائز نہیں۔(4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: جس کو رجم کیا گیا، اوسے غسل و کفن دینا اور اوس کی نماز پڑھنا ضروری ہے۔(5) (تنویر)
مسئلہ ۲۶: اگر وہ شخص جس کا زنا ثابت ہو ا محصن نہ ہو تو اوسے دُرّے مارے جائیں، اگر آزاد ہے تو سو ۱۰۰ دُرّے اورغلام یا باندی ہے تو پچاس ۵۰ اور دُرّہ اس قسم کا ہو جس کے کنارہ پر گرہ نہ ہو نہ اُس کا کنارہ سخت ہو اگر ایسا ہو تو اوس کو کوٹ کر ملائم کرلیں اور متوسط طور پر ماریں، نہ آہستہ نہ بہت زور سے۔ نہ دُرّے کو سرسے اُونچا اٹھا کر مارے نہ بدن پر پڑنے کے بعد اوسے کھینچے بلکہ اُوپر کو اوٹھالے اور بدن پر ایک ہی جگہ نہ مارے، بلکہ مختلف جگہوں پر مگر چہرہ اور سر اور شرمگاہ پر نہ مارے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: دُرّہ مارنے کے وقت مرد کے کپڑے اوتارلیے جائیں مگر تہبند یا پاجامہ نہ اوتاریں کہ ستر ضرور ہے اور عورت کے کپڑے نہ اوتارے جائیں ہا ں پوستین(7) یا روئی بھرا ہواکپڑا پہنے ہو تو اسے اوتروالیں مگر جبکہ اوس کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو تو اسے بھی نہ اوتروائیں اور مرد کو کھڑا کرکے اور عورت کو بٹھا کر دُرّے ماریں۔ زمین پر لٹا کر نہ ماریں