مسئلہ ۱۸: اقرار کرچکنے کے بعد اب انکار کرتا ہے حد قائم کرنے سے پہلے یادرمیان حدمیں یا اثنائے حد میں بھاگنے لگا یا کہتا ہے کہ میں نے اقرار ہی نہ کیا تھا تو اُسے چھوڑدینگے حد قائم نہ کرینگے اور اگر شہادت سے زنا ثابت ہوا ہوتو رجوع یا انکار یا بھاگنے سے حدموقوف نہ کریں گے۔ اور اگر اپنے محصن ہونے کا اقرار کیا تھا پھر اس سے رجوع کرگیا(1) تو رجم نہ کرینگے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: گواہوں سے زنا ثابت ہوا اور حد قائم کی جارہی تھی اثنائے حد میں بھاگ گیا تو اوسے دوڑ کر پکڑیں اگر فور ا ً مِل جائے تو بقیہ حد قائم کریں اور چند روز کے بعد ملا تو حد ساقط ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: رجم کی صورت یہ ہے کہ اوسے میدان میں لیجا کر اس قدر پتھر ماریں کہ مرجائے اور رجم کے لیے لوگ نماز کی طرح صفیں باندھ کر کھڑے ہوں جب ایک صف مارچکے تو یہ ہٹ جائے اب اور لوگ ماریں۔ اگر رجم میں ہر شخص یہ قصد کرے (4)کہ ایسا ماروں کہ مرجائے تو اس میں بھی حرج نہیں۔ ہاں اگر یہ اوس کا ذی رحم محرم ہے تو ایسا قصد کرنے کی اجازت نہیں اور اگر ایسے شخص کو جس پر رجم کا حکم ہو چکا ہے کسی نے قتل کر ڈالا یا اوس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر نہ قصاص ہے نہ دیت مگر سزا دینگے کہ اس نے کیوں پیش قدمی کی۔ ہاں اگر حکمِ رجم سے پہلے ایسا کیا تو قصاص یا دیت واجب ہوگی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: اگر زنا گواہوں سے ثابت ہوا ہے تو رجم میں یہ شرط ہے کہ پہلے گواہ ماریں اگر گواہ رجم کرنے سے کسی وجہ سے مجبور ہیں مثلاً سخت بیمار ہیں یا اون کے ہاتھ نہ ہوں تو ان کے سامنے قاضی پہلے پتھر مارے اور اگر گواہ مارنے سے انکار کریں یا وہ سب کہیں چلے گئے یا مرگئے یا اون میں سے ایک نے انکار کیا یا چلاگیا یا مر گیا یا گواہی کے بعد ان کے ہاتھ کسی وجہ سے کاٹے گئے تو ان سب صورتوں میں رجم ساقط ہوگیا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: سب گواہوں میں یااون میں سے ایک میں کوئی ایسی بات پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے وہ اب اس قابل نہیں کہ گواہی قبول کی جائے مثلاً فاسق ہوگیا یا اندھا یا گونگا ہوگیا یا اوس پر تہمت زناکی حد ماری گئی