یا مرد کا عضو تناسل بالکل کٹا ہے یا عورت کا سوراخ بند ہے۔ غرض جس کے ساتھ زنا کا اقرار ہے وہ منکر ہے یا خود اقرار کرنے والے میں صلاحیت نہ ہو یا جس کے ساتھ بتاتا ہے اوس سے زنا میں حد نہ ہو تو ان سب صورتوں میں حدنہیں۔ (1)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۲: زنا کے بعد اگر ان دونوں کا باہم نکاح ہوا تو یہ نکاح حد کو دفع نہ کریگا۔ یوہیں اگرعورت کنیز تھی اور زنا کے بعد اوسے خریدلیا تو اس سے حد جاتی نہ رہے گی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: اگرایک ہی مجلس میں چار بار اقرار کیا تو یہ ایک اقرار قرار دیا جائیگا اور اگر چار دنوں میں یا چار مہینوں میں چار اقرار ہوئے تو حد ہے جبکہ اور شرائط بھی پائے جائیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: بہتر یہ ہے کہ قاضی اوسے یہ تلقین کرے کہ شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا یا چھوا ہوگا یا شبہہ کے ساتھ وطی کی ہوگی یا تونے اوس سے نکاح کیا ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اقرار کرنے والے سے جب پوچھا گیا کہ تو نے کس عورت سے زنا کیا ہے تو اوس نے کہامیں پہچانتا نہیں یا جس عورت کا نام لیتا ہے وہ اس وقت یہاں موجود نہیں کہ اوس سے دریافت کیا جائے تو ایسے اقرار پر بھی حد قائم کرینگے۔ (5) (بحر)
مسئلہ ۱۶: قاضی کو اگر ذاتی علم ہے کہ اس نے زنا کیا ہے تو اس کی بنا پر حد نہیں قائم کرسکتا جب تک چارمردوں کی گواہیاں نہ گزریں یا زانی چاربار اقرار نہ کرلے۔ اور اگر کہیں دوسری جگہ اوس نے اقرار کیے اور اس اقرار کی شہادت قاضی کے پاس گزری تو اس کی بناپر حد نہیں۔(6) (بحر)
مسئلہ ۱۷: جب اقرار کرلے گا تو قاضی دریافت کریگا کہ وہ محصن ہے یا نہیں اگر وہ محصن ہونے کا بھی اقرار کرے تو احصان کے معنے پوچھے اگر بیان کردے تو رجم ہے اور اگر محصن ہونے سے انکار کیا اور گواہوں سے اوس کا محصن ہونا ثابت ہے جب بھی رجم ہے ورنہ دُرے مارنا۔ (7)(عالمگیری)