اور اگر کوئی سفارش کرے بھی تو حاکم کو چھوڑنا جائز نہیں اور اگر حاکم کے پاس پیش ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو حدساقط ہوجائیگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: حد قائم کرنا بادشاہ اسلام یا اوسکے نائب کا کام ہے یعنی باپ اپنے بیٹے پر یا آقا اپنے غلام پر نہیں قائم کرسکتا۔ اور شرط یہ ہے کہ جس پر قائم ہو اوس کی عقل درست ہو اور بدن سلامت ہو لہٰذا پاگل اور نشہ والے اور مریض اور ضعیف الخلقۃ(2) پر قائم نہ کرینگے بلکہ پاگل اور نشہ والا جب ہوش میں آئے اور بیمار جب تندرست ہوجائے اوس وقت حد قا ئم کرینگے۔(3) (عالمگیری)
حد کی چند صورتیں ہیں، اون میں سے ایک حد زنا ہے۔ وہ زنا جس میں حد واجب ہوتی ہے یہ ہے کہ مردکا عورت مشتہاۃ(4) کے آگے کے مقام میں بطور حرام بقدر حشفہ(5) دخول کرنا اور وہ عورت نہ اس کی زوجہ ہو نہ باندی نہ ان دونوں کا شبہہ ہو نہ شبہہ اشتباہ ہو اور وہ وطی کرنے والا مکلف ہو اور گونگا نہ ہو اور مجبور نہ کیا گیا ہو۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: حشفہ سے کم دخول میں حد واجب نہیں۔ اور جس کا حشفہ کٹاہو تو مقدار حشفہ کے دخول سے حدو اجب ہوگی۔ مجنون و نابالغ نے وطی کی تو حد واجب نہیں اگر چہ نابالغ سمجھ وال ہو۔ یوہیں اگر گونگا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یا اتنی چھوٹی لڑکی کے ساتھ کیا جو مشتہاۃ نہ ہو۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جس عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا یا لونڈی سے بغیر مولیٰ (8)کی اجازت کے نکاح کیا یا غلام نےبغیراذن مولیٰ (9)نکاح کیا اور ان صورتوں میں وطی(10) ہوئی تو حد نہیں۔ یوہیں کسی نے اپنے لڑکے کی باندی(11) یا غلام کی باندی سے جماع کیا تو حد نہیں کہ ان سب میں شبہہ نکاح(12) یاشبہہ مِلک(13) ہے اور جس عورت کو تین طلاقیں دیں