Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
371 - 466
عدت کے اندر اوس سے وطی کی یا لڑکے نے باپ کی باندی سے وطی کی اگر اوس کا یہ گمان تھا کہ وطی حلال ہے تو حد نہیں، ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: حاکم کے نزدیک زنا اوس وقت ثابت ہوگا جب چار مرد ایک مجلس میں لفظ زنا کے ساتھ شہادت ادا کریں یعنی یہ کہیں کہ اس نے زناکیا ہے اگر وطی یا جماع کا لفظ کہیں گے تو زنا ثابت نہ ہوگا۔ (2)(درمختار وغیرہ)

    مسئلہ ۶: اگر چاروں گواہ یکے بعد دیگرے آ کرمجلس قضا میں بیٹھے اور ایک ایک نے اوٹھ اوٹھ کر قاضی کے سامنے شہادت دی تو گواہی قبول کرلی جائے گی۔ اور اگر دارالقضا (3)کے باہر سب مجتمع (4)تھے اور وہاں سے ایک ایک نے آکر گواہی دی تو گواہی مقبول نہ ہوگی اور ان گواہوں پر تہمت کی حد لگائی جائے گی۔ (5)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۷: دوگواہوں نے یہ گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دو ۲ یہ کہتے ہیں کہ اس نے زنا کا اقرار کیا تو نہ اوس پر حد ہے نہ گواہوں پر، اور اگر تین نے شہادت دی کہ زنا کیا ہے اور ایک نے یہ کہ اوس نے زنا کااقرار کیاہے تو اون تینوں پر حد قائم کی جائے گی۔(6) (بحر)

    مسئلہ ۸: اگر چارعورتوں نے شہادت دی تو نہ اوس پر حد ہے، نہ ان پر۔(7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: جب گواہ گواہی دے لیں تو قاضی اون سے دریافت کریگا کہ زنا کس کو کہتے ہیں۔ جب گواہ اس کو بتالیں گے اور یہ کہیں کہ ہم نے دیکھا کہ اوس کے ساتھ وطی کی جیسے سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے تو اون سے دریافت کریگا کہ کس طرح زنا کیا یعنی اکراہ و مجبوری میں تو نہ ہوا۔ جب یہ بھی بتالیں گے تو پوچھے گا کہ کب کیا کہ زمانہ دراز گزر کر تما دی(8)تونہ ہوئی۔ پھرپوچھے گا کس عورت کے ساتھ کیا کہ ممکن ہے وہ عورت ایسی ہو جس سے وطی پر حد نہیں۔ پھر پوچھے گا کہ کہاں زنا کیا کہ شاید دارالحرب میں ہوا ہو تو حدنہ ہوگی۔ جب گواہ ان سب سوالوں کا جواب دے لیں گے تو اب اگر ان گواہوں کا عادل ہونا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''کتاب الحدود، الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص۱۴۳.

و'' رد المحتار''کتاب الایمان ،مطلب الزنی شرعاً ...الخ، ج ۶،ص ۹.

2۔۔۔۔۔۔'' الدر المختار''، کتاب الحدود ج ۶ ، ص ۱۱،وغیرہ.

3۔۔۔۔۔۔ یعنی عدالت ،قاضی کی کچہری۔

4۔۔۔۔۔۔اکٹھے۔

5۔۔۔۔۔۔'' رد المحتار''، کتاب الحدود ج ۶ ،ص ۱۱.

6۔۔۔۔۔۔'' البحر الرائق'' ، کتاب الحدو د ، ج ۵ ،ص۹.

7۔۔۔۔۔۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی الزنا، ج ۲، ص ۱۴۳.

8۔۔۔۔۔۔ اتنی مدت جس کے گزرجانے کے بعد دعویٰ دائر کرنے کاحق نہیں رہتا ۔
Flag Counter