عدت کے اندر اوس سے وطی کی یا لڑکے نے باپ کی باندی سے وطی کی اگر اوس کا یہ گمان تھا کہ وطی حلال ہے تو حد نہیں، ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: حاکم کے نزدیک زنا اوس وقت ثابت ہوگا جب چار مرد ایک مجلس میں لفظ زنا کے ساتھ شہادت ادا کریں یعنی یہ کہیں کہ اس نے زناکیا ہے اگر وطی یا جماع کا لفظ کہیں گے تو زنا ثابت نہ ہوگا۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: اگر چاروں گواہ یکے بعد دیگرے آ کرمجلس قضا میں بیٹھے اور ایک ایک نے اوٹھ اوٹھ کر قاضی کے سامنے شہادت دی تو گواہی قبول کرلی جائے گی۔ اور اگر دارالقضا (3)کے باہر سب مجتمع (4)تھے اور وہاں سے ایک ایک نے آکر گواہی دی تو گواہی مقبول نہ ہوگی اور ان گواہوں پر تہمت کی حد لگائی جائے گی۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: دوگواہوں نے یہ گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دو ۲ یہ کہتے ہیں کہ اس نے زنا کا اقرار کیا تو نہ اوس پر حد ہے نہ گواہوں پر، اور اگر تین نے شہادت دی کہ زنا کیا ہے اور ایک نے یہ کہ اوس نے زنا کااقرار کیاہے تو اون تینوں پر حد قائم کی جائے گی۔(6) (بحر)
مسئلہ ۸: اگر چارعورتوں نے شہادت دی تو نہ اوس پر حد ہے، نہ ان پر۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جب گواہ گواہی دے لیں تو قاضی اون سے دریافت کریگا کہ زنا کس کو کہتے ہیں۔ جب گواہ اس کو بتالیں گے اور یہ کہیں کہ ہم نے دیکھا کہ اوس کے ساتھ وطی کی جیسے سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے تو اون سے دریافت کریگا کہ کس طرح زنا کیا یعنی اکراہ و مجبوری میں تو نہ ہوا۔ جب یہ بھی بتالیں گے تو پوچھے گا کہ کب کیا کہ زمانہ دراز گزر کر تما دی(8)تونہ ہوئی۔ پھرپوچھے گا کس عورت کے ساتھ کیا کہ ممکن ہے وہ عورت ایسی ہو جس سے وطی پر حد نہیں۔ پھر پوچھے گا کہ کہاں زنا کیا کہ شاید دارالحرب میں ہوا ہو تو حدنہ ہوگی۔ جب گواہ ان سب سوالوں کا جواب دے لیں گے تو اب اگر ان گواہوں کا عادل ہونا