Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
369 - 466
    حدیث ۲۶: ترمذی و ابن ماجہ و حاکم جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنی اُمت پر سب سے زیادہ جس چیز کا مجھے خوف ہے، وہ عمل قومِ لوط ہے۔'' (1)

    حدیث ۲۷: رزین ابن عباس و ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ملعون ہے وہ جو قومِ لوط کا عمل کرے۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے دونوں کو جلا دیا اور ابوبکر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اُن پر دیوار ڈھا دی۔ (2)

    حدیث ۲۸: ترمذی و نسائی و ابن حبان ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ اُس مرد کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا، جو مرد کے ساتھ جماع کرے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جماع کرے۔'' (3)

    حدیث ۲۹: ابو یعلیٰ عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''حیا کرو کہ اﷲتعالیٰ حق بات بیان کرنے سے بازنہ رہے گا اور عورتوں کے پیچھے کے مقام میں جماع نہ کرو۔'' (4)

    حدیث ۳۰: امام احمد و ابو داود ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو شخص عورت کے پیچھے میں جماع کرے، وہ ملعون ہے۔'' (5)
احکام فقہیّہ
    حد ایک قسم کی سزا ہے جس کی مقدار شریعت کی جانب سے مقرر ہے کہ اوس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اس سے مقصودلوگوں کو ایسے کام سے باز رکھنا ہے جس کی یہ سزا ہے اور جس پر حد قائم کی گئی وہ جب تک توبہ نہ کرے محض حد قائم کرنے سے پاک نہ ہوگا۔ (6)

    مسئلہ ۱: جب حاکم کے پاس ایسا مقدمہ پہنچ جائے اور ثبوت گزرجائے تو سفارش جائز نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطي، الحدیث: ۱۴۶۲، ج۳،ص۱۳۸.

2۔۔۔۔۔۔''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الحدود، الفصل الثالث، الحدیث: ۳۵۸۳، ۳۵۸۴، ج۲، ص۳۱۴ ۔ ۳۱۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان النساء فی أدبارہن، الحدیث: ۱۱۶۷،ج۲، ص۳۸۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الترغیب و الترہیب''، کتاب الحدود... إلخ، الترہیب من اللواط... إلخ، الحدیث: ۱۴، ج۳، ص۱۹۸. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح، الحدیث: ۲۱۶۲، ج۲،ص۳۶۲. 

6۔۔۔۔۔۔'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدو د ج ۶ ،ص ۵.
Flag Counter