ہیں ان کے متعلق بیان فرمایا) یہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ (1)
حدیث ۱۵: حاکم ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو اونھوں نے اپنے لیے اﷲ (عزوجل) کے عذاب کو حلال کرلیا۔'' (2)
حدیث ۱۶: ابو داود و نسائی و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، اونھوں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ ''جو عورت کسی قوم میں اوس کو داخل کردے جو اوس قوم سے نہ ہو (یعنی زنا کرایا اور اوس سے اولاد ہوئی) تو اوسے اﷲ (عزوجل) کی رحمت کا حصہ نہیں اور اوسے جنت میں داخل نہ فرمائے گا۔'' (3)
حدیث ۱۷: مسلم و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''تین شخصوں سے اﷲتعالیٰ نہ کلام فرمائیگا اور نہ اونھیں پاک کریگا اور نہ اون کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا اور اون کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔(۱)بوڑھا زنا کرنے والا اور(۲)جھوٹ بولنے والا بادشاہ اور(۳)فقیر متکبر۔'' (4)
حدیث ۱۸: بزار بریدہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور زانیوں کی شرمگاہ کی بدبو جہنم والوں کو ایذا دے گی۔'' (5)
حدیث ۱۹: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہ کونسا گناہ سب میں بڑا ہے؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اﷲ (عزوجل) کے ساتھ کسی کو شریک کرے، حالانکہ تجھے اوس نے پیدا کیا۔'' میں نے عرض کی، بیشک یہ بہت بڑا ہے پھر اس کے بعد کونسا گناہ؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔'' میں نے عرض کی پھر کونسا؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اپنے پروسی کی عورت سے زنا کرے۔'' (6)
حدیث ۲۰: امام احمد و طبرانی مقداد بن اسود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے صحابہ سے ارشاد فرمایا: ''زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟''لوگوں نے عرض کی، وہ حرام ہے