اور کوئی غریب ایسا کرتا تو اوسے رجم کرتے۔ پھر ہم نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی سزا تجویز کرنی چاہیے، جو امیر و غریب سب پر جاری کی جائے، لہٰذا ہم نے یہ سزا تجویز کی کہ اوس کا مونھ کالا کریں اور گدھے پر اُلٹا سوار کرکے شہر میں تشہیر کریں۔ (1)
اب ہم چاہتے ہیں کہ زنا کی مذمت و قباحت میں جوا حادیث وارد ہوئیں، اون میں سے بعض ذکر کریں۔
حدیث ۱۱: بخاری و مسلم و ابو داود و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''زنا کرنے والا جس وقت زناکرتا ہے مومن نہیں رہتا اور چور جس وقت چوری کرتا ہے مومن نہیں رہتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے مومن نہیں رہتا۔'' اور نسائی کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ ''جب ان افعال کو کرتا ہے تو اسلام کا پٹّا اپنی گردن سے نکال دیتا ہے پھر اگر توبہ کرے تو اﷲتعالیٰ اوس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔'' حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے فرمایا: کہ اوس شخص سے نورِ ایمان جدا ہوجاتا ہے۔ (2)
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی و بیہقی و حاکم اونھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب مرد زنا کرتا ہے تو اوس سے ایمان نکل کر سر پر مثل سائبان کے ہوجاتا ہے، جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تواوس کی طرف ایمان لوٹ آتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۳: امام احمد عمرو بن عاص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ ''جس قوم میں زنا(4)ظاہر ہوگا، وہ قحط میں گرفتار ہوگی اور جس قوم میں رشوت کا ظہور ہوگا، وہ رعب میں گرفتار ہوگی۔'' (5)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''رات میں نے دیکھا کہ دوشخص میرے پاس آئے اور مجھے زمین مقدس کی طرف لے گئے (اس حدیث میں چند مشاہدات بیان فرمائے اون میں ایک یہ بات بھی ہے) ہم ایک سوراخ کے پاس پہنچے جو تنور کی طرح اوپرتنگ ہے اور نیچے کشادہ، اوس میں آگ جل رہی ہے اور اوس آگ میں کچھ مرد اور عورتیں برہنہ ہیں جب آگ کا شعلہ بلندہوتا ہے تو وہ لوگ اوپر آجاتے ہیں اور جب شعلے کم ہو جاتے ہیں تو شعلے کے ساتھ وہ بھی اندر چلے جاتے ہیں (یہ کون لوگ