قسم ہے خدا کی! اگرفاطمہ بنت محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم (والعیاذ باﷲتعالیٰ) چوری کرتی تو اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔'' (1)
حدیث ۴: امام احمدو ابوداود عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''جس کی سفارش حد قائم کرنے میں حائل ہوجائے(2)، اوس نے اﷲ(عزوجل) کی مخالفت کی اور جو جان کر باطل کے بارے میں جھگڑے، وہ ہمیشہ اﷲتعالیٰ کی ناراضی میں ہے جب تک اُس سے جدا نہ ہوجائے اور جو شخص مومن کے متعلق ایسی چیز کہے جو اوس میں نہ ہو، اﷲتعالیٰ اوسے ردغۃ الخبال میں اوس وقت تک رکھے گا جب تک اوس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہولے۔ ردغۃ الخبال جہنم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پیپ جمع ہوگا۔'' (3)
حدیث ۵: ابو داود و نسائی بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''حد کو آپس میں تم معاف کرسکتے ہو (یعنی جب تک اس کا مقدمہ میرے پاس پیش نہ ہو، تمھیں درگزر کرنے کا اختیارہے) اور میری خدمت میں پہنچنے کے بعد واجب ہوجائے گی (یعنی اب ضرور قائم ہوگی)۔'' (4)
حدیث ۶: ابو داود اُم المومنین عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''(اے ائمہ)! عزت داروں کی لغزشیں دفع کر دو(5)، مگر حدود کہ ان کو دفع نہیں کرسکتے۔'' (6)
حدیث ۷: بخاری و مسلم ابوہریرہ و زید بن خالد رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ دوشخصو ں نے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا۔ ایک نے کہا، ہمارے درمیان کتاب اﷲ کے موافق فیصلہ فرمائیے، دوسرے نے بھی کہا ہاں یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کتاب اﷲ کے موافق فیصلہ کیجئے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجیے۔ ارشاد فرمایا:''عرض کرو۔'' اوس نے کہا میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا اوس نے اس کی عورت سے زنا کیا لوگوں نے مجھے خبر دی کہ میرے لڑکے پر رجم ہے، میں نے سو ۱۰۰ بکریاں اور ایک کنیز اپنے لڑکے کے فدیہ میں دی پھر جب میں نے اہلِ علم سے سوال کیا تو اونھوں نے خبر دی کہ میرے لڑکے پر سو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائیگا اور اس کی عورت پر رجم ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''قسم ہے اوس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!