حدیث ۱: ابن ماجہ عبداﷲ بن عمراور نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ (عزوجل) کی حدود میں سے کسی حد کا قائم کرنا چالیس ۴۰ رات کی بارش سے بہتر ہے۔'' (2)
حدیث ۲: ابن ماجہ عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) کی حدود کو قریب و بعید سب میں قائم کرو اور اﷲ (عزوجل) کے حکم بجا لانے میں ملامت کرنے والے کی ملامت تمھیں نہ روکے۔'' (3)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ابوداود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی تھی، جس کی وجہ سے قریش کو فکر پیدا ہوگئی (کہ اس کو کس طرح حد سے بچایا جائے۔) آپس میں لوگوں نے کہا، کہ اس کے بارے میں کون شخص رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے سفارش کریگا؟ پھرلوگوں نے کہا، سوا اسامہ بن زید رضی اﷲتعالیٰ عنہما کے جو رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، کوئی شخص سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا، غرض اسامہ نے سفارش کی، اس پر حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ تو حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے پھر حضور(صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس خطبہ میں یہ فرمایا: کہ ''اگلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ اگراُن میں کوئی شریف چوری کرتا تو اوسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اوس پر حد قائم کرتے،