Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
360 - 466
مسئلہ۲: قسم کھائی کہ فلاں روز اوس کے روپے ادا کردونگا اور وقت پورا ہونے سے پہلے اوس نے معاف کردیا یا اوس دن کے آنے سے پہلے ہی اس نے ادا کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ یہ روٹی کل کھائیگا اور آج ہی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اگر قرض خواہ نے قسم کھائی کہ فلاں روز روپیہ وصول کرلوں گا اور اوس دن کے پہلے معاف کردیا یا ہبہ کر دیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر دن مقرر نہ کیا تھا تو ٹوٹ گئی۔ (1)(درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ۳: قرض خواہ نے قسم کھائی کہ بغیر اپنا حق لیے تجھے نہ چھوڑونگا پھر قرضدار سے اپنے روپے کے بدلے میں  کوئی چیزخریدلی اور چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر کسی عورت پر روپے تھے اور قسم کھائی کہ بغیر حق لیے نہ ہٹو ں گا اور وہیں  رہا یہاں تک کہ اوس روپے کو مہر قرار دےکر عورت سے نکاح کر لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(2) (بحر) 

    مسئلہ۴: قسم کھائی کہ بغیر اپنا لیے تجھ سے جدا نہ ہو ں گا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے کہ یہ اُسے دیکھ رہا ہے اور اوس کی حفاظت میں  ہے تو اگر چہ کچھ فاصلہ ہو مگر جدا ہونا نہ پایا گیا۔ یوہیں اگر مسجد کا ستون درمیان میں  حائل(3) ہو یا ایک مسجد کے اندر ہے دوسرا باہر اور مسجد کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ اوسے دیکھتا ہے تو جدا نہ ہوا اور اگر مسجد کی دیوار درمیان میں حائل ہے کہ اُسے نہیں دیکھتا اور ایک مسجد میں ہے اور دوسرا باہر تو جدا ہوگیا اور قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر قرضدار کو مکان میں کرکے باہر سے قفل (4)بند کردیا اور دروازہ پر بیٹھا ہے اور کنجی اس کے پاس ہے تو جدا نہ ہوا۔ اور اگر قرضدار نے اسے پکڑ کر مکان میں بند کر دیا اور کنجی قرضدار کے پاس ہے تو قسم ٹوٹ گئی۔(5) (بحر) 

    مسئلہ۵: قسم کھائی کہ اپنا روپیہ اوس سے وصول کرونگا تو اختیار ہے کہ خود وصول کرے یا اس کا وکیل اور خواہ خود اوسی سے لے یا اوس کے وکیل یا ضامن سے یا اوس سے جس پر اوس نے حوالہ کردیا بہر حال قسم پوری ہوجائے گئی۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ۶: قرض خواہ قرضدارکے دروازہ پر آیا اور قسم کھائی کہ بغیر لیے نہ ہٹو ں گا اور قرضدار نے آکر اوسے دھکا دیکر ہٹا دیا مگر اوس کے ڈھکیلنے سے ہٹا خود اپنے قدم سے نہ چلا اور جب اُس جگہ سے ہٹا دیا گیا اب اوس کے بعد بغیر لیے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج ۵ ،ص۷۰۶.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراہم،ج۲،ص۱۳۴.

2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ ،ج۴، ص۶۱۳،۶۱۴.

3۔۔۔۔۔۔رکاوٹ،آڑ۔

4۔۔۔۔۔۔تالا۔

5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ،ج۴،ص۶۱۵.

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراھم،ج۲،ص ۱۳۴.
Flag Counter