تو قسم نہیں ٹوٹی کہ وہاں سے خود نہ ہٹا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۷: قسم کھائی کہ میں اپنا کُل روپیہ ایک دفعہ لو ں گا تھوڑاتھوڑا نہیں لو ں گا اور ایک ہی مجلس میں دس دس یا پچیس پچیس گن گن کر اسے دیتا گیا اور یہ لیتا گیا توقسم نہیں ٹوٹی یعنی گننے میں جو وقفہ ہوا اس کا قسم میں اعتبار نہیں اور اس کو تھوڑا تھوڑا لینا نہ کہیں گے۔ اور اگر تھوڑے تھوڑے روپے لیے تو قسم ٹوٹ جائیگی مگر جب تک کہ کُل روپیہ پر قبضہ نہ کرلے نہیں ٹوٹے گی یعنی جس وقت سب روپے پر قبضہ ہوجائیگا اوس وقت ٹوٹے گی اوس سے پہلے اگرچہ کئی مرتبہ تھوڑے تھوڑے لیے ہیں مگر قسم نہیں ٹوٹی تھی۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ۸: کسی نے کہا اگر میرے پاس مال ہو تو عورت کو طلاق ہے اور اوس کے پاس مکان اور اسباب ہیں جو تجارت کے لیے نہیں تو طلاق نہ ہوئی۔(3) (درمختار)
مسئلہ۹: قسم کھائی کہ یہ چیز فلاں کو ہبہ کرونگا اور اس نے ہبہ کیا مگر اوس نے قبول نہ کیا تو قسم سچی ہو گئی اوراگرقسم کھائی کہ اوس کے ہاتھ بیچوں گا اور اس نے کہا کہ میں نے یہ چیز تیرے ہاتھ بیچی مگر اوس نے قبول نہ کی تو قسم ٹوٹ گئی۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱۰: قسم کھائی کہ خوشبو نہ سونگھے گا اور بلا قصد ناک میں گئی تو قسم نہیں ٹوٹی اور قصداً سونگھی تو ٹوٹ گئی۔ (5)(بحر وغیرہ)
مسئلہ۱۱: قسم کھائی کہ فلاں شخص جو حکم د ے گا بجالاؤں گا اور جس چیز سے منع کر ے گا باز رہوں گا اور اوس نے بی بی کے پاس جانے سے منع کردیا اور یہ نہیں مانا اگروہاں کوئی قرینہ ایسا تھا جس سے یہ سمجھا جاتا ہو کہ اس سے منع کریگا تو اس سے بھی باز آؤں گا جب تو قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔(6) (عالمگیری)