مسئلہ ۱۱: قسم کھائی کہ یہ جانور بیچ ڈالے گا اور وہ چوری ہوگیا تو جب تک اوس کے مرنے کا یقین نہ ہو قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کسی چیز کا بھاؤکیا(2) بائع نے کہا میں بارہ روپے سے کم میں نہیں دونگا اس نے کہا اگر میں بارہ روپیہ میں لوں تو میری عورت کو طلاق ہے پھر وہی چیز تیرہ میں یا بارہ روپے اور کوئی کپڑا وغیرہ روپے پر اضافہ کرکے خریدی یعنی بارہ سے زیادہ دیے تو طلاق ہوگئی اور اگر گیارہ روپے اور ان کے ساتھ کچھ کپڑا وغیرہ دیا تو نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ کپڑا نہیں خریدے گا اور کملی یا ٹاٹ یا بچھونا یا ٹوپی یا قالین خریدا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم کھائی کہ نیا کپڑا نہیں خریدے گا تو استعمالی کپڑا، بے دُھلا ہوا بھی خریدنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (4)(بحر) مگر بعض کپڑے اس زمانہ میں ایسے ہیں کہ اون کے دُھلنے کی نوبت نہیں آتی وہ اگر اتنے استعمالی ہیں کہ اونھیں پرانا کہتے ہوں تو پرانے ہیں۔
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ سونا چاندی نہیں خریدونگا اور ان کے برتن یا زیور خرید ے تو قسم ٹوٹ گئی اور روپیہ یا اشرفی خریدی تو نہیں کہ ان کے خریدنے کو عرف میں سونا چاندی خریدنا نہیں کہتے۔ یوہیں قسم کھائی کہ تانبا نہیں خریدیگا اور پیسے مول لیے(5) تو نہیں ٹوٹی۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ جَو نہ خریدے گا اور گیہوں خریدے ا ن میں کچھ دانے جَو کے بھی ہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر اینٹ، تختہ، کڑی(7) وغیرہ کے نہ خریدنے کی قسم کھائی اور مکان خریدا، جس میں یہ سب چیزیں ہیں تو نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ گوشت نہیں خریدیگا اور زندہ بکری خریدی یا قسم کھائی کہ دودھ نہیں خریدیگا اور بکری وغیرہ کوئی جانور خریدا جس کے تھن میں دودھ ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (9)(بحر)