مسئلہ ۱۷: قسم کھائی کہ پیتل یا تانبا نہیں خریدے گا اور ان کے برتن طشت(1) وغیرہ خریدے تو قسم ٹوٹ گئی۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۱۸: قسم کھائی کہ تیل نہیں خریدے گا اور نیت کچھ نہ ہو تو وہ تیل مراد لیا جائیگا جس کے استعمال کی وہاں عادت ہو خواہ کھانے میں یا سر کے ڈالنے میں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۹: قسم کھائی کہ فلاں عورت سے نکاح نہ کریگا اور نکاح فاسد کیا مثلاً بغیر گواہوں کے یا عدت کے اندر تو قسم نہیں ٹوٹی کہ نکاح فاسد نکاح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: قسم کھائی کہ لڑکے یا لڑکی کا نکاح نہ کریگا اور نابالغ ہوں تو خود کرے یا دوسرے کو وکیل کردے دونوں صورتوں میں قسم ٹوٹ گئی اور بالغ ہوں تو خود پڑھانے سے ٹوٹے گی دوسرے کو وکیل کرنے سے نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا پھر یہ پاگل یابوہراہوگیا اور اس کے باپ نے نکاح کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا اور قسم سے پہلے فضولی نے نکاح کیاتھا اور بعد قسم اس نے نکاح کو جائز کردیا تو نہیں ٹوٹی اور قسم کے بعد فضولی نے نکاح کر دیا ہے تواگر قول سے جائز کریگا ٹوٹ جائیگی اور فعل سے جائز کیا مثلاً عورت کے پاس مہر بھیج دیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر فضولی یا وکیل نے نکاح فاسد کیا ہے تو نہیں ٹوٹے گی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: نکاح نہ کرنے کی قسم کھائی اور کسی نے مجبور کرکے نکاح کرایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ اتنے سے زیادہ مہر پر نکاح نہ کریگا اور اوتنے ہی پر نکاح کیا، بعد کومَہر میں اضافہ کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(9) (عالمگیری)