ہبہ و اجارہ کا بھی یہی حکم ہے کہ فاسد(1) سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ یہ چیز نہیں بیچے گا اور اوس کو کسی معاوضہ کی شرط پر ہبہ کر دیا اور دونوں جانب سے قبضہ بھی ہوگیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: صورت مذکورہ میں اگر بیع باطل کے ذریعہ سے خریدی یا بیچی یا خریدنے کے بعد قسم کھائی کہ اسے نہیں بیچے گا اور وہ چیز بائع کو پھیردی یا عیب ظاہر ہو ا اور پھیردی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ نہیں بیچے گا اور کسی شخص نے بے اس کے حکم کے بیچ دی اور اس نے اوس کو جائز کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی ہاں اگر وہ قسم کھانے والا ایسا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ایسی چیز نہیں بیچتا ہے تو ٹوٹ گئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: قسم کھائی کہ بیچنے کے لیے غلہ نہ خریدے گا اور گھر کے خرچ کے لیے خریدا پھر کسی وجہ سے بیچ ڈالا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ مکان نہیں بیچے گا اور اوسے عورت کے مہر میں دیا اس میں دوصورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ مکان ہی مہر ہوکہ نکاح میں یہ کہا ہو کہ بعوض اس مکان کے تیرے نکاح میں دی جب تو نہیں ٹوٹی اور اگر روپے کا مہر بندھا تھا مثلاً اتنے سو یا اتنے ہزار روپے دین مہر کے عوض تیرے نکاح میں دی اور روپے کے عوض اس نے مکان دیدیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(7) (بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: قسم کھائی کہ فلاں سے نہیں خریدے گا اور اوس سے بیع سلم کے ذریعہ سے کوئی چیز خریدی توقسم ٹوٹ گئی۔ (8)(بحر)