اور دوسرے سے یہ کام لیا یا دعویٰ نہ کرونگا اور وکیل سے دعوٰے کرایا یا اپنے لڑ کے کو نہیں مارونگا اور دوسرے سے مارنے کو کہا تو ان سب صورتوں میں قسم نہیں ٹوٹی۔ اور جو عقد اس قسم کے ہیں کہ اون کے حقوق اوسکے لیے نہیں جس سے وہ عقد صادر ہوں کہ یہ شخص محض متوسط(1) ہوتا ہے بلکہ حقوق اوسکے لیے ہوں جس نے حکم دیا ہے اور جو مؤکل ہے جیسے نکاح، غلام آزاد کرنا، ہبہ، صدقہ، وصیت، قرض لینا، امانت رکھنا، عاریت دینا، عاریت لینا، یا جو فعل ایسے ہوں کہ اون کا نفع اور مصلحت حکم کرنے والے کے لیے ہے جیسے غلام کو مارنا، ذبح کرنا، دَین کا تقاضا،(2) دَین کا قبضہ کرنا، کپڑا پہننا، کپڑاسلوانا، مکان بنوانا تو ان سب میں خواہ خود کرلے یا دوسرے سے کرائے بہرحال قسم ٹوٹ جائیگی مثلاً قسم کھائی کہ نکاح نہیں کریگا اور کسی کو اپنے نکاح کا وکیل کردیا اوس وکیل نے نکاح کردیا یا ہبہ و صدقہ و وصیت اور قرض لینے کے لیے دوسرے کو وکیل کیا اور وکیل نے یہ کام انجام دیے یا قسم کھائی کہ کپڑا نہیں پہنے گا اور دوسرے سے کہا اوس نے پہنادیایا قسم کھائی کہ کپڑے نہیں سلوائے گا اس کے حکم سے دوسرے نے سلوائے یا مکان نہیں بنائیگا اور اسکے حکم سے دوسرے نے بنایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(فتح القدیر وغیرہ)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور نیت یہ ہے کہ نہ خود اپنے ہاتھ سے خریدے بیچے گا نہ دوسرے سے یہ کام لے گا اور دوسرے سے خریدوائی یا بیچوائی تو قسم ٹوٹ گئی کہ ایسی نیت کرکے اس نے خود اپنے اوپر سختی کرلی۔ یوہیں اگرایسی نیت تو نہیں ہے مگر یہ قسم کھانے والا اُن لوگوں میں ہے کہ ایسی چیز اپنے ہاتھ سے خریدتے بیچتے نہیں ہیں تو اب بھی دوسرے سے خریدوانے بیچوانے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر وہ شخص کبھی خود خریدتا اور کبھی دوسرے سے خریدواتا ہے تو اگر اکثر خود خریدتا ہے تو وکیل کے خریدنے سے نہیں ٹوٹے گی اور اگر اکثر خریدواتا ہے تو ٹوٹ جائیگی۔(4) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور دوسرے کی طرف سے خریدی یا بیچی تو قسم ٹوٹ گئی۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور بیع فاسد کے ساتھ خریدی یا بیچی تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ قبضہ نہ ہوا ہو۔ یوہیں اگر بائع(6) یا مشتری(7) نے اختیار واپسی کا اپنے لیے رکھا ہو جب بھی قسم ٹوٹ گئی۔