| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
اس کے بعد قسم کھائی کہ طلاق نہ دے گا، قسم کھانے کے بعد عورت نے کہا میں نے طلاق چاہی تو طلاق بھی ہوگئی اور قسم بھی ٹوٹی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا اور دوسرے کو اپنے نکاح کا وکیل کیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اگرچہ یہ کہے کہ میرا مقصد یہ تھا کہ اپنی زبان سے ایجاب و قبول نہ کروں گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا اگر تو جنے تو تجھے طلاق ہے اور مردہ یا کچا بچہ پیدا ہوا تو طلاق ہوگئی، ہاں اگر ایسا کچّا بچہ پیدا ہوا جس کے اعضا نہ بنے ہوں تو طلاق نہ ہوئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۹: جو میرا غلام فلاں بات کی خوشخبری سنا ئے وہ آزاد ہے اور متفرق طور پر(4) کئی غلاموں نے آکر خبر دی توپہلے جس نے خبردی ہے وہ آزاد ہوگا کہ خوشخبری سنانے کے یہ معنی ہیں کہ خوشی کی خبردینا جس کو وہ نہ جانتا ہو تو دوسرے اور تیسرے نے جو خبر دی یہ جاننے کے بعد ہے، لہٰذا آزاد نہ ہونگے اور جھوٹی خبردی تو کوئی آزاد نہ ہو گا کہ جھوٹی خبر کو خوشخبری نہیں کہتے اور اگر سب نے ایک ساتھ خبر دی تو سب آزاد ہو جائینگے۔ (5)(تنویرالابصار)خرید و فروخت و نکاح وغیرہ کی قسم
مسئلہ ۱: بعض عقد(6)اس قسم کے ہیں کہ اون کے حقوق اوسکی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے وہ عقد صادرہو (7) اور اس میں وکیل کو اسکی حاجت نہیں کہ یہ کہے میں فلاں کی طرف سے یہ عقد کرتا ہوں جیسے خریدنا، بیچنا ،کرایہ پردینا کرایہ پر لینا۔ اور بعض فعل ایسے ہیں جن میں وکیل کو موکل(8) کی طرف نسبت کرنے کی حاجت ہوتی ہے جیسے مقدمہ لڑانا کہ وکیل کو کہنا پڑیگا کہ یہ دعویٰ میں اپنے فلاں موکل کی طرف سے کرتاہوں اور بعض فعل ایسے ہوتے ہیں جن میں اصل فائدہ اوسی کو ہوتا ہے جو اوس فعل کا محل ہے یعنی جس پر وہ فعل واقع ہے جیسے اولاد کو مارنا۔ ان تینوں قسموں میں اگر خود کرے تو قسم ٹوٹے گی اور اس کے حکم سے دوسرے نے کیا تو نہیں مثلاً قسم کھائی کہ یہ چیز میں نہیں خریدوں گا اور دوسرے سے خریدوائی یا قسم کھائی کہ گھوڑا کرایہ پر نہیں دونگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۲،ص۱۱۱.
بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے، اصل عبارت یوں ہے ''قسم کھانے کے بعدعورت نے کہامیں نے طلاق چاہی توطلاق بھی ہوگئی اورقسم بھی نہ ٹوٹی'' ۔...عِلْمِیہ
2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الأیمان ، الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۲،ص۱۱۱. 3۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۴،ص۵۷۳. 4۔۔۔۔۔۔علیحدہ علیحدہ،باری باری۔ 5۔۔۔۔۔۔'' تنویرالأبصار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۵،ص۶۴۹. 6۔۔۔۔۔۔یعنی بعض معاملات۔ 7۔۔۔۔۔۔واقع ہو۔ 8۔۔۔۔۔۔وکیل بنانے والا۔