Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
348 - 466
 اور اوس کا پچھلا ہونا اوس وقت معلوم ہوگا جب یہ شخص مرے اس واسطے کہ جب تک زندہ ہے کسی کو پچھلا نہیں کہہ سکتے۔ اور یہ اب سے آزاد نہ ہوگا بلکہ جس وقت اوس نے خریدا ہے اوسی وقت سے آزاد قرار دیا جائیگا لہٰذا اگر صحت میں خریدا جب تو بالکل آزاد ہے اور مرض الموت میں خریدا تو تہائی مال سے آزاد ہوگا۔ اور اگر اس کہنے کے بعدصرف ایک ہی غلام خریدا ہے تو آزاد نہ ہوگا کہ یہ پچھلا تو جب ہوگا جب اس سے پہلے اوربھی خریدا ہوتا۔ (1) (درمختار)

    مسئلہ ۳: اگر کہاپہلی عورت جو میرے نکاح میں آئے اوسے طلاق ہے تو اس کہنے کے بعد جس عورت سے پہلے نکاح ہوگا اُسے طلاق پڑجائے گی اور نصف مَہر واجب ہوگا۔ 

    مسئلہ ۴: اگرکہا کہ پچھلی عورت جو میرے نکاح میں آئے اوسے طلاق ہے اور دویا زیادہ نکاح کیے تو جس سے آخر میں نکاح ہوا نکاح ہوتے ہی اوسے طلاق پڑجائیگی مگر اس کا علم اوس وقت ہوگا جب وہ شخص مرے کیونکہ جب تک زندہ ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ پچھلی ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد اور نکاح کرلے۔لہٰذا اُس کے مرنے کے بعد جب معلوم ہوا کہ یہ پچھلی ہے تونصف مَہر بوجہ طلاق پائے گی۔ اور اگر وطی ہوئی ہے تو پورا مہر بھی لے گی۔ اور اس کی عدت حیض سے شمار ہوگی۔ اور عدت میں سوگ نہ کریگی اور شوہر کی میراث نہ پائے گی۔ اور اگر اس صورت مذکورہ میں اوس نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر دوسری سے کیا پھر پہلی کو طلاق دیدی پھر اس سے نکاح کیا تو اگر چہ اس سے ایک بار نکاح آخر میں کیا ہے مگر اس کو طلاق نہ ہوگی بلکہ دوسری کو ہوگی کہ جب اس سے پہلے ایک بار نکاح کیا تو یہ پہلی ہوچکی اسے پچھلی نہیں کہہ سکتے، اگرچہ دوبارہ نکاح اس سے آخر میں ہوا ہے۔(2) (بحر، درمختار) 

    مسئلہ ۵: یہ کہا کہ اگر میں گھر میں جاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے پھر قسم کھائی کہ عورت کو طلاق نہیں دیگا اسکے بعد گھر میں گیا تو عورت کو طلاق ہوگئی مگر قسم نہیں ٹوٹی اور اگر پہلے طلاق نہ دینے کی قسم کھائی پھر یہ کہا کہ اگر گھر میں جاؤں تو عورت کوطلاق ہے اور گھر میں گیا تو قسم بھی ٹوٹی اور طلاق بھی ہوگئی۔(3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۶: کسی شخص کو اپنی عورت کو طلاق دینے کا وکیل بنایا پھر یہ قسم کھائی کہ عورت کو طلاق نہیں دیگا، اب اس قسم کے بعد وکیل نے اوس کی عورت کو طلاق دی تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں اگر عورت سے کہا تو اگر چاہے توتجھے طلاق ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۵،ص۶۴۶.

2۔۔۔۔۔۔''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۴،ص ۵۷۵.

و''الدرالمختار''کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۵،ص۶۴۶.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۲، ص ۱۱۱.
Flag Counter