Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
347 - 466
اگر تو اب کسی اجنبی سے کلام کرے گی تو تجھ کو طلاق ہے پھر عورت نے کسی ایسے شخص سے کلام کیا جو اوس گھر میں رہتا ہے مگر محارم (1)میں سے نہیں یا کسی رشتہ دار غیر محرم سے کلام کیا تو طلاق ہوگئی۔(2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲۷: کچھ لوگ کسی جگہ بیٹھے ہوئے بات کررہے تھے ان میں سے ایک نے کہا جو شخص اب بولے اوس کی عورت کو طلاق ہے پھرخود ہی بولا تو اوس کی عورت کو طلاق ہوگئی۔(3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کروں گا پھر زید نے اوسے خوشی کی کوئی خبر سنائی اوس نے کہا الحمد للہ یا رنج کی سنائی اوس نے کہا اِنَّالِلّٰہِ تو قسم نہیں ٹوٹی اور زید کی چھینک پر یَرْحَمُکَ اﷲُ کہا توٹوٹ گئی۔(4) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ جب تک شب قدر نہ گزر لے کلام نہ کروں گا اگر یہ شخص عام لوگوں میں ہے تو رمضان کی ستائیسویں رات گزرنے پر کلام کرسکتا ہے اور اگر جانتا ہو کہ شب قدر میں ائمہ کا اختلاف ہے تو جب تک قسم کے بعد پورا رمضان نہ گزرلے کلام نہیں کرسکتا یعنی اگر رمضان سے پہلے قسم کھائی تو اس رمضان کے گزرنے کے بعد کلام کرسکتا ہے اور رمضان کی ایک رات گزرنے کے بعد قسم کھائی تو جب تک دوسرا رمضان پورانہ گزرجائے کلام نہیں کرسکتا۔ (5) (عالمگیری)
طلاق د ینے اور آزاد کرنے کی  یمین
    مسئلہ ۱: اگرکہاکہ پہلا غلام کہ خریدوں آزاد ہے تواس کے کہنے کے بعد جس کو پہلے خریدے گا آزاد ہوجائیگا اور دو۲ غلام ایک ساتھ خریدے تو کوئی آزاد نہ ہوگا کہ ان میں سے کوئی پہلا نہیں۔ اور اگر کہا کہ پہلا غلام جس کا میں مالک ہوں گا آزاد ہے اور ڈیڑھ غلام کا مالک ہوا تو جو پورا ہے آزاد ہے اور آدھا کچھ نہیں۔ یوہیں اگر کپڑے کی نسبت کہا کہ پہلا تھان جو خریدوں صدقہ ہے اور ڈیڑھ تھان ایک ساتھ خریدا تو ایک پورے کو تصدق(6) کرے۔(7) (درمختار)

    مسئلہ ۲: اگر کہا کہ پچھلا غلام جس کو میں خریدوں آزاد ہے اور اوسکے بعد چند غلام خریدے تو سب میں پچھلا آزاد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔وہ قریبی رشتے دار جن سے ہمیشہ نکاح حرام ہو۔

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲، ص ۱۰۱.

3۔۔۔۔۔۔المر جع السابق، ۱۰۲.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص ۹۹،۱۰۲.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲، ص ۱۰۸.

6۔۔۔۔۔۔ صدقہ۔

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۵،ص۶۴۴۔۶۴۶.
Flag Counter