اور شکایت نہ کی تو قسم نہیں ٹوٹی یا قسم کھائی کہ اوس کا قرض آج ادا کردیگا اور اوس نے معاف کردیا تو قسم جاتی رہی۔(1) (درمختار، ردالمحتار، بحر)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ فلاں کے غلام یا اوس کے دوست یا اوس کی عورت سے کلام نہ کرونگا اور اوس نے غلا م کو بیچ ڈالایا اور کسی طرح اوس کی ملک سے نکل گیا اور دوست سے عداوت(2) ہوگئی اور عورت کو طلاق دیدی تواب کلام کرنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی غلام میں چاہے یوں کہا کہ فلاں کے اس غلام سے یا فلاں کے غلام سے دونوں کا ایک حکم ہے اور اگر قسم کے وقت وہ اوس کا غلام تھااور کلام کرنے کے وقت بھی ہے یا قسم کے وقت یہ اوسکا غلام نہ تھا اور اب ہے دونوں صورتوں میں ٹوٹ جائے گی۔ (3)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۲: اگرکہا فلاں کی اس عورت سے یا فلاں کی فلاں عورت سے یا فلاں کے اس دوست سے یا فلاں کے فلاں دوست سے کلام نہ کروں گا اور طلاق یا عداوت کے بعد کلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر نہ اشارہ ہو نہ معین کیا ہو اور اوس نے اب کسی عورت سے نکاح کیا یا کسی سے دوستی کی تو کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: قسم کھائی کہ فلاں کے بھائیوں سے کلام نہ کرونگا اور اوس کا ایک ہی بھائی ہے تو اگر اسے معلوم تھا کہ ایک ہی ہے تو کلام سے قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ اس کپڑے والے سے کلام نہ کریگا اوس نے کپڑے بیچ ڈالے پھر اس نے کلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی اور جس نے کپڑے خریدے اوس سے کلام کیا تو نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: قسم کھائی کہ میں اوس کے پاس نہیں پھٹکوں گا تو یہ وہی حکم رکھتا ہے جیسے یہ کہا کہ میں اوس سے کلام نہ کروں گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: کسی نے اپنی عورت کو اجنبی شخص(8)سے کلام کرتے دیکھا اوس نے کہا