اور اگر کہا کہ بچہ سے کلام نہ کروں گا اور جوان یا بوڑھے سے کلام کیا تو نہیں ٹوٹی۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کریگا اور زید سو رہا تھا، اس نے پکارا اگر پکارنے سے جاگ گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور بیدار نہ ہوا تو نہیں اور اگر جاگ رہاتھا اور اوس نے پکارا اگر اتنی آواز تھی کہ سُن سکے اگرچہ بہرے ہونے یا کام میں مشغول ہونے یا شور کی وجہ سے نہ سنا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر دور تھا اور اتنی آواز سے پکارا کہ سُن نہیں سکتا تو نہیں ٹوٹی۔ اور اگر زید کسی مجمع (2)میں تھا اس نے اوس مجمع کو سلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی ہاں اگر نیت یہ ہو کہ زید کے سوا اور وں کو سلام کرتاہے تو نہیں ٹوٹی۔ اور نماز کا سلام کلام نہیں ہے، لہٰذا اس سے قسم نہیں ٹوٹے گی خواہ زید دہنی طرف ہو یا بائیں طرف۔ یوہیں اگر زید امام تھا اور یہ مقتدی، اس نے اوس کی غلطی پر سبحان اﷲ کہا یا لقمہ دیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر یہ نماز میں نہ تھا اور لقمہ دیا یا اوس کی غلطی پر سبحان اﷲ کہا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ زید سے بات نہ کروں گا اور کسی کام کو اوس سے کہنا ہے اس نے کسی دوسرے کو مخاطب کرکے کہا اور مقصود زید کو سنانا ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگرعورت سے کہا کہ تُو نے اگرمیری شکایت اپنے بھائی سے کی تو تجھ کو طلاق ہے، عورت کا بھائی آیا اور اوس کے سامنے عورت نے بچہ سے اپنے شوہر کی شکایت کی اور مقصود بھائی کو سنانا ہے تو طلاق نہ ہوئی۔(4) (بحر)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ میں تجھ سے ابتدائً کلام نہ کرونگا اور راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا تو قسم نہیں ٹوٹی بلکہ جاتی رہی کہ اب ابتداءً کلام کرنے میں حرج نہیں۔ یوہیں اگر عورت سے کہا اگر میں تجھ سے ابتدائً کلام کروں تو تجھ کو طلاق ہے اور عورت نے بھی قسم کھائی کہ میں تجھ سے کلام کی پہل نہ کروں گی تو مرد کو چاہیے کہ عورت سے کلام کرے کہ اوس کی قسم کے بعد جب عورت نے قسم کھائی تواب مرد کا کلام کرنا ابتدائً نہ ہوگا۔(5) (بحر)
مسئلہ ۶: کلام نہ کرنے کی قسم کھائی تو خط بھیجنے یا کسی کے ہاتھ کچھ کہلاکر بھیجنے یا اشارہ کرنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: اقرار وبشارت(7)اورخبر دینا یہ سب لکھنے سے ہوسکتے ہیں اور اشارہ سے نہیں