مسئلہ ۴۱: کسی کے پاس روپے ہیں، قسم کھائی کہ ان کو نہیں کھائیگا پھر روپے کے پیسے بُھنا لیے(1) یا اشرفیاں کرلیں پھر ان پیسوں یا اشرفیوں سے کوئی چیز خرید کر کھائی توقسم ٹوٹ گئی اور اگر ان پیسوں یا اشرفیوں سے زمین خریدی پھر اسے بیچ کر کھایا تو نہیں ٹوٹی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: قسم اوس وقت صحیح ہوگی کہ جس چیز کی قسم کھائی ہو وہ زمانہ آئندہ میں پائی جاسکے یعنی عقلاً ممکن ہو اگرچہ عادۃً محال ہو مثلاً یہ قسم کھائی کہ میں آسمان پر چڑھو ں گا یا اس مٹی کو سونا کردوں گا تو قسم ہوگئی اور اُسی وقت ٹوٹ بھی گئی۔ یوہیں قسم کے باقی رہنے کی بھی یہ شرط ہے کہ وہ کام اب بھی ممکن ہو، لہٰذا اگر اب ممکن نہ رہا تو قسم جاتی رہی مثلاً قسم کھائی کہ میں تمھارا روپیہ کل ادا کرونگا اور کل کے آنے سے پہلے ہی مرگیا تو اگر چہ قسم صحیح ہوگئی تھی مگر اب قسم نہ رہی کہ وہ رہاہی نہیں، اس قاعدہ کے جاننے کے بعد اب یہ دیکھیے کہ اگر قسم کھائی کہ میں اس کو زہ کا پانی آج پیوں گا اور کوزہ میں پانی نہیں ہے یا تھا مگر رات کے آنے سے پہلے اوس میں کا پانی گر گیا یا اس نے گرا دیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ پہلی صورت میں قسم صحیح نہ ہوئی اور دوسری میں صحیح تو ہوئی مگر باقی نہ رہی۔ یوہیں اگر کہا میں اس کو زہ کاپانی پیوں گا اور اس میں پانی اوس وقت نہیں ہے تو نہیں ٹوٹی مگر جبکہ یہ معلوم ہے کہ پانی نہیں ہے اور پھر قسم کھائی تو گنہگار ہوا، اگر چہ کفارہ لازم نہیں اور اگر پانی تھا اور گرگیا یا گرا دیا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ لازم۔ (3)(درمختار، ردالمحتار، بحر )
مسئلہ ۴۳: عورت سے کہا اگر تو نے کل نماز نہ پڑھی تو تجھ کو طلاق ہے اور صبح کو عورت کو حیض آگیا توطلاق نہ ہوئی۔ یوہیں عورت سے کہا کہ جوروپیہ تونے میری جیب سے لیا ہے اگر اوس میں نہ رکھے گی تو طلاق ہے اور دیکھا تو روپیہ جیب ہی میں موجود ہے طلاق نہ ہوئی۔ (4)(درمختار)