ایک مجلس میں کھاسکتا ہے اور ایک پیاس میں پی سکتا ہے تو جب تک کُل نہ کھائے پئے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور روٹی ایسی ہے کہ ایک مجلس میں پوری کھاسکتا ہے تو اوس روٹی کا ٹکڑا کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یوہیں قسم کھائی کہ اس گلاس کا پانی نہیں پیے گا تو ایک گھونٹ پینے سے نہیں ٹوٹی۔ اور اگر کھانا اتنا ہے کہ ایک مجلس میں نہیں کھاسکتا تو اس میں سے ذرا سا کھانے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی مثلاً قسم کھائی کہ اس گائے کا گوشت نہیں کھائیگا اور ایک بوٹی کھائی قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں قسم کھائی کہ اس مٹکے کا پانی نہیں پیوں گا اور مٹکا پانی سے بھرا ہے تو ایک گھونٹ سے بھی ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر یوں کہا کہ یہ روٹی مجھ پر حرام ہے تو اگرچہ ایک مجلس میں وہ روٹی کھاسکتا ہو مگر اوس کا ٹکڑا کھانے سے بھی کفارہ لازم ہوگا۔ یوہیں یہ پانی مجھ پر حرام ہے اور ایک گھونٹ پی لیا تو کفارہ واجب ہوگیا، اگرچہ وہ ایک پیاس کا بھی نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور کُل کھا گیا ایک ذراسی چھوڑدی تو قسم ٹوٹ گئی کہ روٹی کا ذرا سا حصہ چھوڑ دینے سے بھی عرف میں یہی کہا جائیگا کہ روٹی کھالی، ہاں اگر اوس کی یہ نیت تھی کہ کل نہیں کھائیگا تو ذرا سی چھوڑ دینے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قسم کھائی کہ اس انار کو نہیں کھاؤں گا اور سب کھا لیا ایک دو دانے چھوڑ دیے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر اتنے زیادہ چھوڑ ے کہ عادۃً اوتنے نہیں چھوڑے جاتے تو نہیں ٹوٹی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: قسم کھائی کہ حرام نہیں کھائیگا اور غصب کیے ہوئے روپے سے کوئی چیز خرید کر کھائی تو قسم نہیں ٹوٹی مگر گنہگار ہوا اور جو چیز کھائی اگروہ خود غصب کی ہوئی ہے تو قسم ٹوٹ گئی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قسم کھائی کہ زید کی کمائی نہیں کھائے گا اور زید کو کوئی چیز وراثت میں ملی تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔اور اگرزید نے کوئی چیز خریدی یاہبہ یاصدقہ میں کوئی چیز ملی اور زید نے اوسے قبول کرلیا تو اسکے کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر زید سے میں نے (5)کوئی چیز خرید کر کھائی تو نہیں ٹوٹی۔ اور اگر زید مرگیا اور اوس کی کمائی کا مال زید کے وراث کے یہاں کھایا یا یہ قسم کھانے والا خود ہی وارث ہے اور کھالیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(6) (عالمگیری)