جن کوعرف میں مٹھائی کہتے ہیں ہاں اس طرف بعض گاؤں میں گُڑ کو مٹھائی کہتے ہیں لہٰذا اگر اس گاؤں والے نے مٹھائی نہ کھانے کی قسم کھائی تو گڑ کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی اور جہاں کا یہ محاور ہ نہیں ہے وہاں والے کی نہیں ٹوٹے گی۔ عربی میں حلوا ہر میٹھی چیز کو کہتے ہیں یہاں تک کہ انجیر اور کھجور کو بھی مگر ہندوستان میں ایک خاص طرح سے بنائی ہوئی چیز کو حلوا کہتے ہیں کہ سوجی، میدہ، چاول کے آٹے وغیرہ سے بناتے ہیں اور یہاں بریلی میں اسکو میٹھا بھی بولتے ہیں، غرض جس جگہ کا جو عرف ہو وہاں اُسی کا اعتبار ہے۔ سالن عموماً ہندوستان میں گوشت کو کہتے ہیں جس سے روٹی کھائی جائے اور بعض جگہ میں نے دال کو بھی سالن کہتے سنا اور عربی زبان میں تو سرکہ کو بھی ادام (سالن) کہتے ہیں۔ آلو، رتالو(1)، اروی، ترئی، بھنڈی، ساگ، کدو، شلجم، گوبھی اور دیگر سبزیوں کو ترکاری کہتے ہیں جن کو گو شت میں ڈالتے ہیں یا تنہا پکاتے ہیں اور بعض گاؤں میں جہاں ہندو کثرت سے رہتے ہیں گوشت کو بھی لوگ ترکاری بولتے ہیں۔
مسئلہ ۳۲: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جسے عرف میں کھانا نہیں کہتے ہیں مثلاً دودھ پی لیا یا مٹھائی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (2)
مسئلہ ۳۳: قسم کھائی کہ نمک نہیں کھائیگا اور ایسی چیز کھائی جس میں نمک پڑا ہوا ہے توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ نمک کامزہ محسوس ہوتا ہو اور روٹی وغیرہ کو نمک لگا کر کھایا توقسم ٹوٹ جائیگی ہاں اگر اوس کے کلام سے یہ سمجھا جاتا ہو کہ نمکین کھانا مراد ہے تو پہلی صورت میں بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: قسم کھائی کہ مرچ نہیں کھائیگا اور گوشت وغیرہ کوئی ایسی چیز کھائی جس میں مرچ ہے اور مرچ کا مزہ محسوس ہوتا ہے تو قسم ٹوٹ گئی، اس کی ضرورت نہیں کہ مرچ کھائے تو قسم ٹوٹے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: قسم کھائی کہ پیاز نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جس میں پیاز پڑی ہے تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ پیاز کا مزہ معلوم ہوتا ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: جس کھانے کی نسبت قسم کھائی کہ اس کو نہیں کھائے گا یا پانی کی نسبت کہ اس کو نہیں پیے گااگر وہ اتنا ہے کہ