مگرجب اوس کی ملک ہے تو کھانے سے ٹوٹ جائیگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: قسم کھائی کہ یہ کھانا کھائیگا تو اس میں دوصورتیں ہیں کوئی وقت مقرر کردیا ہے یا نہیں اگر وقت نہیں مقرر کیا ہے پھر وہ کھانا کسی اور نے کھا لیا یا ہلاک ہوگیا یا قسم کھانے والا مرگیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر وقت مقررکردیا ہے مثلاً آج اسکو کھائے گا اور دن گزرنے سے پہلے قسم کھانے والا مرگیا یا کھانا تلف(2) ہوگیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا تو وہ کھانا مراد ہے جس کو عادۃً(4) کھاتے ہیں لہٰذا اگر مُردار کا گوشت کھایا توقسم نہیں ٹوٹی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ سری نہیں کھائے گا اور اوس کی یہ نیت ہوکہ بکری ،گائے ،مرغ، مچھلی وغیرہ کسی جانور کا سر نہیں کھائیگا تو جس چیز کا سر کھائے گا قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر نیت کچھ نہ ہو تو گائے اور بکری کے سرکھانے سے قسم ٹوٹے گی اور چڑیا،ٹڈی(6)، مچھلی وغیرہا جانوروں کے سرکھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔(7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ انڈا نہیں کھائیگا اور نیت کچھ نہ ہو تو مچھلی کے انڈے کھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: میوہ نہ کھانے کی قسم کھائی تو مراد سیب، ناشپاتی، آڑو، انگور، انار، آم، امرود وغیرہا ہیں جن کو عرف میں میوہ کہتے ہیں کھیرا، ککڑی، گاجر، وغیرہا کو میوہ نہیں کہتے۔ (9)
مسئلہ ۳۱: مٹھائی سے مراد اَمرتی(10)، جلیبی، پیڑا، بالوشاہی، گلاب جامن، قلاقند، برفی، لڈو وغیرہا