یا گھی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور گوشت کھانے سے ٹوٹ جائے گی۔ (1)(بحر وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: قسم کھائی کہ یہ آٹا نہیں کھائیگا اور اوس کی روٹی یا اور کوئی بنی ہوئی چیز کھائی تو قسم ٹوٹ گئی اور خود آٹا ہی پھانک لیا تو نہیں۔(2) (بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: قسم کھائی کہ روٹی نہیں کھائیگا تواوس جگہ جس چیز کی روٹی لوگ کھاتے ہیں اوس کی روٹی سے قسم ٹوٹے گی مثلاًہندوستان میں گیہوں، جو، جوار، باجرا، مکّا(3)کی روٹی پکائی جاتی ہے تو چاول کی روٹی سےقسم نہیں ٹوٹے گی اور جہاں چاول کی روٹی لوگ کھاتے ہوں وہاں کے کسی شخص نے قسم کھائی تو چاول کی روٹی کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ یہ سرکہ نہیں کھائے گا اور چٹنی یا سِکَنجبِین(5) کھائی جس میں وہ سرکہ پڑا ہواتھا تو قسم نہیں ٹوٹی یا قسم کھائی کہ اس انڈے سے نہیں کھائے گا اور اوس میں سے بچہ نکلا اور اوسے کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(6) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ اس درخت سے کچھ نہ کھائے گا اور اوس کی قلم لگائی (7)تو اس قلم کے پھل کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ اس بچھیا کا گوشت نہیں کھائیگا پھر جب وہ جوان ہوگئی اُس وقت اُس کا گوشت کھایا تو قسم ٹوٹ گئی۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائیگا تو مچھلی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور اونٹ، گائے بھینس، بھیڑ، بکری اور پرند وغیرہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اگر اون کا گوشت کھایا تو ٹوٹ جائے گی، خواہ شوربے دار ہو یا بُھنا ہو ا یاکوفتہ(10)