کے لیے تھوڑا سا کھالینے یا پی لینے کو چکھنا کہتے ہیں اگر قرینہ سے یہ بات معلوم ہو کہ اس کلام میں چکھنے سے مراد تھوڑا سا کھا کر مزہ معلوم کرنا ہے تو یہ مراد لیں گے۔ مثلاً کوئی شخص کچھ کھارہا ہے اوس نے دوسرے کو بلایا اس نے انکار کیااوس نے کہا ذرا چکھ کر تو دیکھو کیسی ہے تو یہاں چکھنے سے مراد تھوڑی سی کھالینا ہے اور اگر قرینہ نہ ہو تو مطلقاً مزہ معلوم کرنے کے لیے مونھ میں رکھنا مراد ہوگا کہ اس معنی میں بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے مگر اگر پانی کی نسبت قسم کھائی کہ اسے نہیں چکھوں گا پھر نماز کے لیےاوس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی کہ کلی کرنا نماز کے لیے ہے مزہ معلوم کرنے کے لیے نہیں اگر چہ مزہ بھی معلوم ہوجائے۔
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ یہ ستو(1) نہیں کھائے گااور اوسے گھول کر پیا یاقسم کھائی کہ یہ ستو نہیں پیے گا اور گوندھ کر کھایا یا ویسا ہی پھانک لیا(2) تو قسم نہیں ٹوٹی۔(3)
مسئلہ ۸: آم وغیرہ کسی درخت کی نسبت کہا کہ اس میں سے کچھ نہ کھاؤں گا تو اوس کے پھل کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی کہ خود درخت کھانے کی چیز نہیں لہٰذا اس سے مراد اوس کا پھل کھانا ہے۔ یوہیں پھل کو نچوڑ کر جو نکلا وہ کھایا جب بھی قسم ٹوٹ گئی اور اگر پھل کو نچوڑ کر اوسکی کوئی چیز بنالی گئی ہو جیسے انگور سے سرکہ بناتے ہیں تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر صورت مذکورہ میں تکَلُّف (4) کرکے کسی نے اوس درخت کا کچھ حصہ چھال وغیرہ کھالیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگر چہ یہ نیت بھی ہو کہ درخت کا کوئی جز نہ کھاؤں گا اور اگر وہ درخت ایسا ہو جس میں پھل ہوتا ہی نہ ہو یاہوتاہے مگر کھایا نہ جاتا ہو تو اوس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی کہ اوسکے کھانے سے مُراد اوس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانا ہے۔(5) (درمختار، بحر وغیرہما )
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ اس آم کے درخت کی کیری(6) نہ کھاؤ نگا اور پکے ہوئے کھائے یا قسم کھائی کہ اس درخت کے انگور نہ کھاؤں گااور منقے(7) کھائے یادودھ نہ کھاؤں گا اور دہی کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۰: قسم کھائی کہ اس گائے یا بکری سے کچھ نہ کھائے گا تو اوس کا دودھ دہی یا مکھن