جو چیز ایسی ہو کہ چبا کر حلق سے اوتاری جاتی ہو اوس کے حلق سے اوتار نے کو کھانا کہتے ہیں، اگرچہ اس نے بغیر چبائے اوتارلی اور پتلی چیز بہتی ہوئی کو حلق سے اوتار نے کو پینا کہتے ہیں، مگر صرف اتنی ہی بات پر اقتصار نہ کرنا چاہیے(1) بلکہ محاور ات کا ضرور خیال کرنا ہوگا کہ کہاں کھانے کا لفظ بولتے ہیں اور کہاں پینے کا کہ قسم کا دارومدار بول چال پر ہے۔
مسئلہ ۱: اُردو میں دودھ پینے کو بھی دودھ کھانا کہتے ہیں، لہٰذا اگر قسم کھائی کہ دودھ نہیں کھاؤں گا تو پینے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر کوئی ایسی چیز کھائی جس میں دودھ ملا ہوا ہے مگر اوس کا مزہ محسوس نہیں ہوتا تو اوس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ دودھ یا سرکہ یا شوربا نہیں کھائیگا اور روٹی سے لگا کر کھایا تو قسم ٹوٹ گئی اور خالی سرکہ پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ اس کو کھانا نہ کہیں گے بلکہ یہ پینا ہے۔(2) (بحر)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہ کھائیگا اور اوسے سُکھا کر کوٹ کر پانی میں گھول کر پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ یہ کھانا نہیں ہے پینا ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۴: اگر کسی چیز کو مونھ میں رکھ کر اوگل دیا(4) تو یہ نہ کھانا ہے نہ پینا مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور مونھ میں رکھ کر اُگل د ی یایہ پانی نہیں پیے گا اور اوس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (بحر)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ یہ انڈا یا یہ اخروٹ نہیں کھائیگا اور اوسے بغیر چبائے ہوئے نگل گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر قسم کھائی کہ یہ انگور یا انار نہیں کھائیگا اور چوس کر عرق(6) پی گیا اور فضلہ (7)پھینک دیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اس کو عرف میں كھاناکہتے ہیں۔یوہیں اگر شکر نہ کھانے کی قسم کھائی تھی اور اوسے مونھ میں رکھ کر جوگھلتی گئی حلق سے اوتارتا گیا قسم ٹوٹ گئی۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۶: چکھنے کے معنی ہیں کسی چیز کو مونھ میں رکھ کر اوس کامزہ معلوم کرنا اور اُردو محاور ہ میں اکثر مزہ دریافت کرنے