مسئلہ ۶۶: قسم کھائی کہ اس زین (1) پر سوار نہ ہوگا پھر اوس میں کچھ کمی بیشی کی جب بھی اوس پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: قسم کھائی کہ کسی جانور پر سوار نہ ہوگا تو آدمی پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی کہ عرف میں(3) آدمی کوجانور نہیں کہتے۔(4) (فتح )
مسئلہ ۶۸: قسم کھائی کہ عربی گھوڑے پرسوار نہ ہوگا تو اور گھوڑوں پر سوار ہونے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۹: قسم کھائی کہ گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھرزبردستی کسی نے سوار کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اوس نے زبردستی کی اور اوس کے مجبور کرنے سے یہ خود سوار ہوا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (6)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷۰: جانور پر سوار ہے اور قسم کھائی کہ سوار نہ ہوگا تو فوراً اتر جائے، ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۱: قسم کھائی کہ زید کے اس گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھر زید نے اوس گھوڑے کو بیچ ڈالا تو اب اوس پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ زید کے گھوڑے پر سوار نہ ہوگا اور اوس گھوڑے پر سوار ہوا جو زید و عمرو میں مشترک ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: قسم کھائی کہ فلاں کے گھوڑے پر سوار نہ ہوگا اور اوس کے غلام کے گھوڑے پر سوار ہوا اگر قسم کے وقت یہ نیت تھی کہ غلام کے گھوڑے پر بھی سوار نہ ہوگا اور غلام پر اتنا دَین (9) نہیں جو مستغرق (10)ہو تو قسم ٹوٹ گئی، خواہ غلام پر بالکل دَین نہ ہو یا ہے مگر مستغرق نہیں اور نیت نہ ہو تو قسم نہیں ٹوٹی اور دَین مستغرق ہو تو قسم نہیں ٹوٹی، اگرچہ نیت ہو۔ (11)(درمختار)