اور نیت یہ ہے کہ اس مکان میں نہ رہونگا اگرچہ کسی کا ہو تو اگرچہ بیچ ڈالا اوس میں رہنے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر یہ نیت ہو کہ چونکہ یہ فلاں کا ہے اس وجہ سے نہ رہوں گا یا کچھ نیت نہ ہو تو بیچنے کے بعد رہنے سے نہ ٹوٹی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: قسم کھائی کہ زید جو مکان خریدے گا اوس میں میں نہ رہوں گااور زید نے ایک مکان عمرو کے لیےخریدا قسم کھانے والا اس مکان میں رہیگا تو قسم ٹوٹ جائے گی۔ ہاں اگر وہ کہے کہ میرا مقصد یہ تھاکہ زید جو مکان اپنے یےخریدے میں اوس میں نہ رہونگا اور یہ مکان تو عمرو کے لیےخریدا ہے تو اس کا قول مان لیا جائیگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: قسم کھائی کہ سوار نہ ہوگا تو جس جانور پر وہاں کے لوگ سوار ہوتے ہیں اوس پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹے گی لہٰذا اگر آدمی کی پیٹھ پر سوار ہوا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں گائے، بیل، بھینس کی پیٹھ پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔ یوہیں گدھے اور اونٹ پر سوار ہونے سے بھی قسم نہ ٹوٹے گی کہ ہندوستان میں ان پر لوگ سوار نہیں ہوا کرتے۔ ہاں اگر قسم کھانے والا اون لوگوں میں سے ہو جو ان پر سوار ہوتے ہیں جیسے گدھے والے یا اُونٹ والے کہ یہ سوار ہوا کرتے ہیں تو قسم ٹوٹ جائے گی اور گھوڑے ہاتھی پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی کہ یہ جانور یہاں لوگوں کی سواری کے ہیں۔یوہیں اگر قسم کھانے والا اون لوگوں میں تو نہیں ہے جو گدھے یا اونٹ پر سوار ہوتے ہیں مگر قسم وہاں کھائی جہاں لوگ ان پر سوار ہوتے ہیں مثلاً ملک عرب شریف کے سفر میں ہے تو گدھے اور اونٹ پر سوار ہونے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔ (3)(مستفاد من الدر وغیرہ)
مسئلہ ۶۴: قسم کھائی کہ کسی سواری پر سوار نہ ہوگا تو گھوڑا، خچر، ہاتھی، پالکی (4)، ڈولی ، بہلی (5)، ریل، یکہ، تانگہ ، شکرم(6) وغیرہا ہر قسم کی سواری گاڑیاں اور کشتی پر سوارہونے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)
مسئلہ ۶۵: قسم کھائی کہ گھوڑے پر سوار نہ ہوگا تو زین یا چار جامہ (8) رکھ کر سوار ہوا یا ننگی پیٹھ پر بہر حال قسم ٹوٹ گئی۔(9) (عالمگیری)