علیحدہ علیحدہ کھول لیا اور اگر قسم کھانے والا اوس مکان میں رہتا تھا وہ شخص زبردستی اوس مکان میں آکر رہنے لگا اگر یہ فوراً اوس مکان سے نکل گیا تو قسم نہیں ٹوٹی ورنہ ٹوٹ گئی اگرچہ اوس کا اس مکان میں رہنا اسے معلوم نہ ہو اور اگر مکان کو معین نہ کیا مثلاً کہا فلاں کے ساتھ کسی مکان میں یا ایک مکان میں نہ رہے گا اور ایک ہی مکان کی تقسیم کرکے دونوں دومختلف حصوں میں ہوں تو قسم نہیں ٹوٹی جبکہ بیچ میں دیوار قائم کردی گئی یاوہ مکان بہت بڑا ہو کہ ایک محلہ کے برابر ہو۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ نہ رہے گا پھر یہ قسم کھانے والا سفر کرکے اوس کے مکان پر جاکر اُترا اگر پندرہ دن ٹھہرے گا تو قسم ٹوٹ جائے گی اور کم میں نہیں۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۵۹: قسم کھائی کہ اوس کے ساتھ فلاں شہر میں نہ رہیگا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اوس شہر کے ایک مکان میں دونوں نہ رہیں گے لہٰذا دونوں اگر اوس شہر کے دومکانوں میں رہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ ہاں اگر اوس قسم سے اُس کی یہ نیت ہو کہ دو نوں اوس شہر میں مطلقاً نہ رہیں گے تو اگرچہ دونوں دومکان میں ہوں تو قسم ٹوٹ گئی۔ یہی حکم گاؤں میں ایک ساتھ نہ رہنے کی قسم کا ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ ایک مکان میں نہ رہیگا اور دونوں بازار میں ایک دوکان میں بیٹھ کر کام کرتے یاتجارت کرتے ہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ ہاں اگر اوس کی نیت میں یہ بھی ہو کہ دونوں ایک دوکان میں کام نہ کرینگے یا قسم کے پہلے کوئی ایسا کلام ہوا ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہو یا دوکان ہی میں رات کو بھی رہتے ہیں تو قسم ٹوٹ جائیگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۱: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہ رہے گا اور مکان کو معین (5)نہ کیا کہ یہ مکان اور اوس شخص نے اس کے قسم کھانے کے بعد اپنامکان بیچ ڈالا تو اب اوس میں رہنے سے قسم نہ ٹوٹے گی اور اگر اس کی قسم کے بعد اوس نے کوئی مکان خریدا اور اوس جدید مکان میں قسم کھانے والا رہا تو ٹوٹ گئی اور اگر وہ مکان اوس شخص کا تنہا نہیں ہے بلکہ دوسرے کا بھی اوس میں حصہ ہے تو اس میں رہنے سے نہیں ٹوٹے گی اور اگر قسم میں مکان کو معین کردیا تھا کہ فلاں کے اس مکان میں نہ رہوں گا