یعنی اگر دروازہ بند ہے اور دیوار توڑ کر نکل سکتا ہے اور توڑ کرنہ نکلا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھانے والی عورت ہے اور رات کا وقت ہے تو رات میں رہ جانے سے قسم نہ ٹوٹے گی اور مردنے قسم کھائی اور رات کا وقت ہے تو جب تک چور وغیرہ کا ڈر نہ ہو عذر نہیں۔(1)
مسئلہ ۵۳: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہ رہے گا اگر دوسرے مکان کی تلاش میں ہے تو مکان نہ چھوڑنے کی وجہ سے قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ کئی دن گزر جائیں بشرطیکہ مکان کی تلاش میں پوری کوشش کرتا ہو۔ یوہیں اگر اوسی وقت سے سامان اوٹھوانا شروع کردیا مگر سامان زیادہ ہونے کے سبب کئی دن گزر گئے یا سامان کے لیے مزدور تلاش کیا اور نہ ملا یا سامان خود ڈھوکر (2)لے گیا اس میں دیر ہوئی اور مزدور کرتا تو جلد ڈُھل جاتا(3) اور مزدور کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے تو ان سب صورتوں میں دیر ہوجانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اردو میں قسم ہے تو اوس کا مکان سے نکل جانا اس نیت سے کہ اب اس میں رہنے کو نہ آؤں گا قسم سچی ہونے کے لیےکافی ہے اگرچہ سامان وغیرہ لیجانے میں کتنی ہی دیر ہو اور کسی وجہ سے دیرہو۔(4) (درمختار، خانیہ)
مسئلہ ۵۴: قسم کھائی کہ اس شہر یا گاؤں میں نہیں رہے گا اور خود وہاں سے فوراً چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ بال بچے اور کل سامان وہیں چھوڑ گیا ہو پھر جب کبھی وہاں رہنے کے ارادہ سے آئیگا قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر کسی سے ملنے کو یا بال بچوں اور سامان لینے کو وہاں آئیگا تو اگرچہ کئی دن ٹھہرجائے قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: قسم کھائی کہ میں پورے سال اس گاؤں میں نہ رہوں گا یا اس مکان میں اس مہینے بھر سکونت نہ کروں گا اور سال میں یامہینے میں ایک دن باقی تھا کہ وہاں سے چلاگیا توقسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: قسم کھائی کہ فلاں شہر میں نہیں رہے گا اور سفر کرکے وہاں پہنچا اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی قسم ٹوٹ گئی اور اس سے کم میں نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ اس مکان میں نہیں رہے گا اور اوس مکان کے ایک حصہ میں وہ رہا اور دوسرے میں یہ تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ دیواراوٹھوا کر اوس مکان کے دو۲حصے جدا جدا کردیے گئے اور ہر ایک نے اپنی اپنی آمدورفت (8) کا دروازہ