مسئلہ ۴۹: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہیں جائیگا اور مالک مکان کے مرنے کے بعد گیا توقسم نہیں ٹوٹی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۵۰: قسم کھائی کہ فلاں مکان میں یا فلاں محلہ یا کوچہ میں نہیں رہے گا اور اوس مکان یا محلہ میں فی الحال رہتا ہے اور اب خود اُس مکان یا محلہ سے چلاگیا بال بچوں اور سامان کو وہیں چھوڑا تو قسم ٹوٹ گئی یعنی قسم اوس وقت پوری ہوگی کہ خود بھی چلاجائے اور بال بچوں کو بھی لے جائے اور خانہ داری کے سامان اوس قدر لے جائے جو سکونت (2)کے لیےضروری ہیں اور اگر قسم کے وقت اوس میں سکونت نہ ہو تو جب خود بال بچے اور خانہ داری کے ضروری سامان کو لے کر اوس مکان میں جائیگا قسم ٹوٹ جائیگی، مگر یہ اوس وقت ہے کہ قسم عربی زبان میں ہو کیونکہ عربی زبان میں اگرخود اوس مکان سے چلاگیا اور بال بچے یا سامان خانہ داری ابھی وہیں ہیں تو وہ مکان اس کی سکونت کا قرار پائیگا اگرچہ اوس میں رہنا چھوڑدیا ہو اور جس مکان میں تنہا جاکر رہتا ہے وہ سکونت کا مکان نہیں اور فارسی یا اُردو میں اگر خود اوس مکان کو چھوڑدیا تو یہ نہیں کہا جائیگا کہ اوس مکان میں رہتا ہے اگرچہ بال بچے وہاں رہتے ہوں یا خانہ داری کا کل سامان اوس مکان میں موجود ہو اور جس مکان میں چلاگیا اوس مکان میں اس کا رہنا قرار دیا جاتا ہے اگرچہ یہاں نہ بال بچے ہوں نہ سامان اور قسم میں اعتبار وہاں کی بول چال کا ہے لہٰذا عربی کا وہ حکم ہے اور فارسی، اردو کا یہ۔ (3)(عالمگیری، بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۱: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں رہے گا اور قسم کے وقت اوسی مکان میں سکونت ہے تو اگر سکونت میں دوسرے کا تابع (4) ہے مثلاً بالغ لڑکا کہ باپ کے مکان میں رہتا ہے یاعورت کہ شوہر کے مکان میں رہتی ہے اور قسم کھانے کے بعد فوراً خود اوس مکان سے چلاگیا اور بال بچوں کو اور سامان کو وہیں چھوڑا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں رہے گا اور نکلنا چاہتا تھا مگر دروازہ بند ہے کسی طرح کھول نہیں سکتا یا کسی نے اوسے مقید کرلیا کہ نکل نہیں سکتا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ پہلی صورت میں اس کی ضرورت نہیں کہ دیوار توڑ کر باہر نکلے