توزبان سے منع کرنا کافی ہے اور ملک ہے تو زبان سے اور ہاتھ پاؤں سے منع کرنا ضرور ہے، ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۴۳: زید و عمر و(2) سفر میں ہیں زید نے قسم کھائی کہ عمرو کے مکان میں نہیں جائیگا عمرو کے ڈیرے (3)اور خیمے یاجس مکان میں اُترا ہے اگر زید گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: قسم کھائی کہ اس خیمہ میں نہ جائے گا اور وہ خیمہ کسی جگہ نصب کیا ہوا ہے(5) اب وہاں سے اوکھاڑ کر دوسری جگہ کھڑا کیا گیا اور اس کے اندر گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں لکڑی کا زینہ (6) یا منبر ایک جگہ سے اوکھاڑ کر دوسری جگہ قائم کیا گیا تو اب بھی وہی قرار پائیگا یعنی جس نے اوس پر نہ چڑھنے کی قسم کھائی ہے اب چڑھا قسم ٹوٹ گئی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: زیدنے قسم کھائی کہ میں عمرو کے پاس نہ جاؤں گا اور عمرو نے بھی قسم کھائی کہ میں زید کے پاس نہ جاؤں گااور دونوں مکان میں ایک ساتھ گئے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگرقسم کھائی کہ میں اوس کے پاس نہ جاؤں گا اور اوس کے مرنے کے بعد گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: قسم کھائی کہ جب تک زید اس مکان میں ہے میں اس مکان میں نہ جاؤں گا اور زید اپنے بال بچوں کو لیکر اوس مکان سے چلاگیا پھر اوس مکان میں آگیا تو اب اُس میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہیں جائے گا اور اوس کے اصطبل (10)میں گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(11) (بحر)
مسئلہ ۴۸: قسم کھائی کہ اس گلی میں نہ آئے گا اور اوس گلی کے کسی مکان میں گیامگر اوس گلی سے نہیں بلکہ چھت پر چڑھ کر یاکسی اور راستہ سے تو قسم نہیں ٹوٹی بشرطیکہ اوس مکان سے نکلنے میں بھی گلی میں نہ آئے۔ (12)(بحر)