Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
324 - 466
    مسئلہ ۲۶: اگرمیری اجازت کے بغیر نکلی تو تجھ کو طلاق ہے اور عورت بغیر اجازت نکلی تو ایک طلاق ہوگئی پھر اب اجازت لینے کی ضرورت نہ رہی کہ قسم پوری ہوگئی لہـذا اگر دوبارہ نکلی تو اب پھر طلاق نہ پڑے گی۔(1) (درمختار)

    مسئلہ ۲۷: قسم کھائی کہ جنازہ کے سوا کسی کام کے لیے گھر سے نہ نکلوں گا اور جنازہ کے لیے نکلا ،چاہے جنازہ کے ساتھ گیا یانہ گیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ گھر سے نکلنے کے بعد اور کام بھی کیے۔ (2)(درمختار) 

    مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ فلاں محلہ میں نہ جائیگا اور ایسے مکان میں گیا جس میں دو دروازے ہیں ایک دروازہ اوس محلہ میں ہے جس کی نسبت قسم کھائی اور دوسرا دوسرے محلہ میں تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(عالمگیری)

    مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ لکھنؤ نہیں جاؤنگا تو لکھنؤ کے ضلع میں جو قصبات یا گاؤں ہیں اون میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ فلاں گاؤں میں نہ جاؤں گا تو آبادی میں جانے سے قسم ٹوٹے گی اور اوس گاؤں کے متعلق جو اراضی بستی سے باہر ہے وہاں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر کسی مُلک کی نسبت قسم کھائی مثلاً پنجاب، بنگال، اودھ، روہیل، کھنڈ وغیرہا تو گاؤں میں جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: قسم کھائی کہ دہلی نہیں جاؤں گا اور پنجاب کے ارادہ سے گھر سے نکلا اور دہلی راستہ میں پڑتی ہے اگر اپنے شہر سے نکلتے وقت نیت تھی کہ دہلی ہوتا ہوا پنجاب جاؤں گا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر یہ نیت تھی کہ دہلی نہ جاؤں گا مگر ایسی جگہ پہنچ کر دہلی ہوکر جانے کا ارادہ ہوا کہ وہاں سے نماز میں قصر شروع ہوگیا(5) تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم میں یہ نیت تھی کہ خاص دہلی نہ جاؤں گااور پنجاب جانے کے لیے نکلا اور دہلی ہوکرجانے کا ارادہ کیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: قسم کھائی کہ فلاں کے گھر نہیں جاؤں گا توجس گھر میں وہ رہتا ہے اوس میں جانے سے قسم ٹوٹ گئی اگرچہ وہ مکان اوسکا نہ ہو بلکہ کرایہ پر یا عاریۃً (7) اوس میں رہتا ہو۔ یوہیں جو مکان اوس کی مِلک میں ہے اگرچہ اوس میں رہتا نہ ہو، اوس میں جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (8)(عالمگیری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔'' الدر المختار ''، کتاب الأیمان ،ج۵، ص ۵۷۶.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق ، ص ۵۶۸.

3۔۔۔۔۔۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔یعنی ظہر،عصراورعشاء کی فرض رکعتیں چارچار کی بجائے دوپڑھناواجب ہوگیا۔

6۔۔۔۔۔۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.

7۔۔۔۔۔۔عارضی طورپر۔

8۔۔۔۔۔۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.
Flag Counter