یا کوئی مانع مثلاً جنون یا نسیان(1) یا بادشاہ کی ممانعت وغیرہا پیش نہ آئے تو آ ؤں گا لہٰذا اگر بلاوجہ نہ آیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: عورت سے کہا اگر میری اجازت کے بغیر گھرسے نکلی تو تجھے طلاق ہے تو ہر بار نکلنے کے لیےاجازت کی ضرورت ہے اور اجازت یوں ہوگی کہ عورت اوسے سنے اور سمجھے اگر اوس نے اجازت دی مگر عورت نے نہیں سنا اور چلی گئی تو طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر اوس نے ایسی زبان میں اجازت دی کہ عورت اوس کو سمجھتی نہیں مثلاً عربی یا فارسی میں کہا اور عورت عربی یا فارسی نہیں جانتی تو طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر اجازت دی مگر کسی قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت مراد نہیں ہے تو اجازت نہیں مثلاً غصہ میں جھڑکنے کے لیےکہا جا تو اجازت نہیں یا کہا جا مگر گئی تو خدا تیرا بھلا نہ کریگا تو یہ اجازت نہیں یا جانے کے لیےکھڑی ہوئی اوس نے لوگوں سے کہا، چھوڑو اسے جانے دو تو اجازت نہ ہوئی اور اگر دروازہ پر فقیر بولا اوس نے کہا فقیر کو ٹکڑا دیدے اگر دروازہ سے نکلے بغیرنہیں دے سکتی تو نکلنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں اور اگر کسی رشتہ دار کے یہاں جانے کی اجازت دی مگر اوس وقت نہ گئی دوسرے وقت گئی تو طلاق ہوگئی اور اگر ماں کے یہاں جانے کے لیےاجازت لی اور بھائی کے یہاں چلی گئی تو طلاق نہ ہوئی اور اگر عورت سے کہا اگر میری خوشی کے بغیر نکلی تو تجھ کو طلاق ہے تو اس میں سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں اور اگر کہا بغیر میرے جانے ہوئے گئی تو طلاق ہے پھر عورت نکلی اور شوہر نے نکلتے دیکھا یا اجازت دی مگر اوس وقت نہ گئی بعد میں گئی تو طلاق نہ ہوئی۔ (3)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اس کے مکان میں کوئی رہتا ہے اوس سے کہا، خداکی قسم! تُو بغیر میری اجازت کے گھرسے نہیں نکلے گا تو ہر بار نکلنے کے لیےاجازت کی ضرورت نہیں پہلی بار اجازت لے لی قسم پوری ہوگئی۔ ہربار اجازت زوجہ کے لیے درکار ہے اور زوجہ کوبھی اگر ایک بار اجازت عام دیدی کہ میں تجھے اجازت دیتا ہوں جب کبھی تو چاہے جائے تو یہ اجازت ہربار کے لیےکافی ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ بغیراجازتِ زید میں نہیں نکلوں گا اور زید مرگیا تو قسم جاتی رہی۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا، خدا کی قسم! تو بغیر میری اجازت کے نہیں نکلے گی تو ہر بار اجازت کی ضرورت اوسی وقت تک ہے کہ عورت اوس کے نکاح میں ہے نکاح جاتے رہنے کے بعد اب اجازت کی ضرورت نہیں۔(6)(ردالمحتار)