مسئلہ ۳۲: قسم کھائی کہ فلاں کی دوکان میں نہیں جاؤں گا تو اگر اس شخص کی دو دوکانیں ہیں ایک میں خود بیٹھتا ہے اورایک کرایہ پر دیدی ہے تو کرایہ والی میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر ایک ہی دوکان ہے جس میں وہ بیٹھتا بھی نہیں ہے بلکہ کرایہ پر دے دی ہے تو اب اوس میں جانے سے قسم ٹوٹ جائیگی کہ اس صورت میں دوکان سے مراد سکونت (1) کی جگہ نہیں بلکہ وہ جو اس کی مِلک(2) میں ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائیگا اور ایسے مکان میں گیا جو زید اور دوسرے کی شرکت میں ہے اگر زید اوس مکان میں رہتا ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور رہتا نہ ہو تو نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: ایک شخص کسی مکان میں بیٹھا ہواہے اور قسم کھائی کہ اس مکان میں اب نہیں آؤنگا تو اوس مکان کے کسی حصہ میں داخل ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی خاص وہی دالان (5) جس میں بیٹھا ہوا ہے مراد نہیں اگرچہ وہ کہے کہ میری مراد یہ دالان تھی ہاں اگر دالان یاکمرہ کہا تو خاص وہی کمرہ مراد ہوگاجس میں وہ بیٹھا ہوا ہے۔(6) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائیگا اور زید کے دو۲ مکان ہیں ایک میں رہتا ہے اور دوسرا گودام ہے یعنی اس میں تجارت کے سامان رکھتا ہے خود زید کی اس میں سکونت نہیں تو اس دوسرے مکان میں جانے سے قسم نہ ٹوٹے گی ہاں اگر کسی قرینہ (7) سے یہ بات معلوم ہو کہ یہ دوسرا مکان بھی مراد ہے تو اس میں داخل ہونے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: قسم کھائی کہ زید کے خریدے ہوئے مکان میں نہیں جائے گا اور زید نے ایک مکان خریدا پھراوس سے اس قسم کھانے والے نے خریدلیا تو اس میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور اگر زید نے خرید کراس کو ہبہ کردیا تو جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (9)(خانیہ، بحر)