چونکہ منّت کی بعض صورتوں میں بھی کفارہ ہوتا ہے اس یےاسکو یہاں ذکر کیا جاتا ہے اس کے بعد قسم کی باقی صورتیں بیان کی جائیں گی اور اس بیان میں جہاں کفارہ کہا جائیگا اوس سے وہی کفارہ مراد ہے جو قسم توڑنے میں ہوتا ہے۔ روزہ کے بیان میں ہم نے منّت کی شرطیں لکھ دی ہیں اون شرطوں کو وہاں سے معلوم کرلیں۔
مسئلہ ۱: منّت کی دو ۲ صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا، دوم یہ کہ ایسا نہ ہو مثلاًمجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیےاتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ پہلی صورت یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہواس کی دوصورتیں ہیں۔ اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے،اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھرآؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یاکفارہ دے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲: منّت میں ایسی شرط ذکر کی جس کا کرنا گناہ ہے اور وہ شخص بدکار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوس کا قصد(3) اوس گناہ کے کرنے کا ہے اور پھر اوس گناہ کو کرلیا تومنّت کو پورا کرنا ضرور ہے اور وہ شخص نیک بخت (4)ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منّت اوس گناہ سے بچنے کے لیے ہے مگر وہ گناہ اوس سے ہوگیا تو اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جس منّت میں شرط ہو اوس کا حکم تو معلوم ہوچکا کہ ایک صورت میں منّت پوری کرنا ہےاور ایک صورت