Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
313 - 466
کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس نے کوئی منّت مانی اور اوسے ذکر نہ کیا (یعنی فقط اتنا کہا کہ مجھ پر نذر ہے اور کسی چیز کو معین نہ کیا، مثلاً یہ نہ کہا کہ اتنے روزے رکھونگا یااتنی نماز پڑھوں گا یا اتنے فقیر کھلاؤں گا وغیرہ وغیرہ) تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے گناہ کی منّت مانی تو اس کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی منّت مانی جس کی طاقت نہیں رکھتا تو اسکاکفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی منّت مانی جس کی طاقت رکھتا ہے تو اسے پورا کرے۔'' (1)

    حدیث ۸: صحاح ستہ میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ اون کی ماں کے ذمہ منّت تھی اور پوری کرنے سے پہلے اون کا انتقال ہوگیا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فتویٰ دیا کہ یہ اوسے پورا کریں۔ (2)

    حدیث ۹: ابو داود و دارمی جابربن عبداﷲرضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، یارسول اﷲ!( صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) میں نے منّت مانی تھی کہ اگر اﷲ تعالیٰ آپ کے لیے مکہ فتح کریگا تو میں بیت المقدس میں دورکعت نماز پڑھوں گا۔ اُنھوں نے ارشاد فرمایا: کہ ''یہیں پڑھ لو۔'' دوبارہ پھر اوس نے وہی سوال کیا، فرمایا: کہ ''یہیں پڑھ لو۔'' پھرسوال کا اعادہ کیا(3)، حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے جواب دیا: ''اب تم جو چاہو کرو۔'' (4)

    حدیث ۱۰: ابو داود ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں، کہ عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن نے منّت مانی تھی کہ پیدل حج کرے گی اور اوس میں اس کی طاقت نہ تھی۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ''تیری بہن کی تکلیف سے اﷲ (عزوجل) کو کیا فائدہ ہے، وہ سواری پر حج کرے اور قسم کاکفارہ دیدے۔'' (5)

    حدیث ۱۱: رزِین نے محمد بن مُنتشِرسے روایت کی کہ ایک شخص نے یہ منّت مانی تھی کہ اگر خدا نے دشمن سے نجات دی تو میں اپنے کو قربانی کر دوں گا۔ یہ سوال حضرت عبداﷲ بن عباس کے پاس پیش ہوا، اونھوں نے فرمایا: کہ مسروق(6) سے پوچھو،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من نذر نذراً لا یطیقہ، الحدیث: ۳۳۲۲، ج۳، ص۳۲۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأیمان و النذور، باب من مات وعلیہ نذر، الحدیث: ۶۶۹۸، ج۴، ص۳۰۲. 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی تیسری بار پھر اس نے وہی سوال کیا۔

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من نذر أن یصلی فی بیت المقدس، الحدیث: ۳۳۰۵، ص۳۱۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من رأی علیہ کفارۃ... إلخ، الحدیث: ۳۲۹۵، ۳۳۰۳، ص۳۱۶ ۔ ۳۱۹. 

6۔۔۔۔۔۔ایک مشہور تابعی بزرگ اورحضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تلمیذ رشید ہیں۔(تہذیب التہذیب)
Flag Counter