حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:''اوس منّت کو پورانہ کرے، جو اﷲ (عزوجل) کی نافرمانی کے متعلق ہو اور نہ اوس کو جس کابندہ مالک نہیں۔'' (1)
حدیث ۳: ابو داود ثابت بن ضحاک رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں منّت مانی تھی کہ بُوّانہ(2) میں ایک اونٹ کی قربانی کریگا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہو کر اوس نے دریافت کیا؟ ارشاد فرمایا: ''کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بُت ہے جس کی پرستش(3)کی جاتی ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں۔ ارشاد فرمایا:''کیا وہاں جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں۔ارشاد فرمایا:''اپنی منّت پوری کر اس لیے کہ معصیت (4)کے متعلق جو منّت ہے اوس کو پور ا نہ کیا جائے اور نہ وہ منّت جس کا انسان مالک نہیں۔'' (5)
حدیث ۴: نسائی نے عمران بن حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا ہے کہ ''منّت دوقسم ہے، جس نے طاعت کی منّت مانی، وہ اﷲ(عزوجل)کے لیے ہے اور اوسے پوراکیا جائے اور جس نے گناہ کرنے کی منّت مانی، وہ شیطان کے سبب سے ہے اور اوسے پورا نہ کیا جائے۔'' (6)
حدیث ۵: صحیح بخاری شریف میں عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم خطبہ فرمارہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑا ہوا دیکھا۔ اوس کے متعلق دریافت کیا؟ لوگوں نے عرض کی، یہ ابواسرائیل ہے اس نے منّت مانی ہے کہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں اور اپنے اوپر سایہ نہ کریگا اور کلام نہ کریگا اور روزہ رکھے گا۔ ارشاد فرمایا کہ ''اسے حکم کر دو کہ کلام کرے اور سایہ میں جائے اور بیٹھے اور اپنے روزہ کو پورا کرے۔''(7)
حدیث ۶: ابو داود و ترمذی و نسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ''گناہ کی منّت نہیں (یعنی اس کا پورا کرنا نہیں)اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔'' (8)
حدیث ۷: ابو داود وابن ماجہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی