| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
مسئلہ ۳۲: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ نہیں اور دیا تو ادا نہ ہوا یعنی اگر کفارہ دینے کے بعد قسم توڑی تو اب پھر دے کہ جو پہلے دیا ہے وہ کفارہ نہیں مگر فقیر سے دیے ہوئے کو واپس نہیں لے سکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کفارہ اونھیں مساکین کو دے سکتاہے جن کو زکوۃ دے سکتا ہے یعنی اپنے باپ ماں اولاد وغیرہم کو جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کفارہ بھی نہیں دے سکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: کفارہ قسم کی قیمت مسجد میں صرف (3)نہیں کرسکتا نہ مردہ کے کفن میں لگا سکتا ہے یعنی جہاں جہاں زکوۃ نہیں خرچ کر سکتا وہاں کفارہ کی قیمت نہیں دیجا سکتی۔(4) (عالمگیری)منّت کا بیان
اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :
(وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمۡ مِّنۡ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللہَ یَعْلَمُہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾ )(5)
جوکچھ تم خرچ کرویا منّت مانو، اﷲ (عزوجل) اوس کوجانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
اور فرماتا ہے:( یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا ﴿۷﴾ (6)
نیک لوگ وہ ہیں جو اپنی منّت پوری کرتے ہیں اور اوس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔
حدیث ۱: امام بخاری و امام احمد و حاکم ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو یہ منّت مانے کہ اﷲ (عزوجل) کی اطاعت کریگا تو اوس کی اطاعت کرے یعنی منّت پوری کرے اور جو اوس کی نافرمانی کرنے کی منّت مانے تو اوس کی نافرمانی نہ کرے یعنی اس منّت کو پورانہ کرے۔'' (7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون ...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص۶۴. 2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الأیمان ،ج۵، ص۵۲۷. 3۔۔۔۔۔۔خرچ ۔ 4۔۔۔۔۔۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیمایکون ...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص ۶۲. 5۔۔۔۔۔۔پ۳،البقرۃ:۲۷۰. 6۔۔۔۔۔۔پ۲۹،الدھر:۷. 7۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب الأیمان والنذور، باب النذر في الطاعۃ... إلخ، الحدیث: ۶۶۹۶،ج۴، ص۳۰۲.