Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
310 - 466
    مسئلہ ۲۵: ان روزوں میں رات سے نیت شرط ہے اور یہ بھی ضرور ہے کہ کفارہ کی نیت سے ہوں مطلق روزہ کی نیت کافی نہیں۔ (1)(مبسوط) 

    مسئلہ ۲۶: قسم کے دوکفارے اس کے ذمہ تھے اس نے چھ روزے رکھ لیےاور یہ معین نہ کیا کہ یہ تین فلاں کے ہیں اور یہ تین فلاں کے تو دونوں کفارے ادا ہوگئے اور اگر دونوں کفاروں میں ہرمسکین کو دوفطرہ کے برابر دیا یا دوکپڑے دیے تو ایک ہی کفارہ ادا ہوا۔ (2)(مبسوط) 

    مسئلہ ۲۷: اوس کے ذمہ دو کفارے تھے اور فقط ایک کفارہ میں کھانا کھلاسکتا ہے اوس نے پہلے تین روزے رکھیےپھر دوسرے کفارے کے لیےکھانا کھلایا تو روزے پھرسے رکھے کہ کھلانے پر قادر تھا اوس وقت روزوں سے کفارہ ادا کرنا جائزنہ تھا۔(3) (مبسوط) 

    مسئلہ ۲۸: دو۲ کفارے تھے ایک کے لیےکھانا کھلایا اور ایک کے لیےکپڑے دیے اور معین نہ کیا تو دونوں ادا ہوگئے۔ (4)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۹: پانچ مسکین کو کھانا کھلایا اب خود فقیر ہوگیا کہ باقی پانچ کو نہیں کھلاسکتا تو وہی تین روزے رکھ لے۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ہے اور محتاج ہے کہ نہ کھانا دے سکتا ہے نہ کپڑااور یہ شخص اتنا بوڑھا ہے کہ نہ اب روزہ رکھ سکتا ہے، نہ آئندہ روزہ رکھنے کی اُمید ہے تو اگر کوئی چاہے اوس کی طرف سے دس۱۰ مسکین کو کھانا کھلا دے یعنی اس کی اجازت سے کفارہ ادا ہوجائے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ذمہ چونکہ تین روزے تھے تو ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: مر جانے سے قسم کا کفارہ سا قط نہ ہو گا یعنی اوس پر لازم ہے کہ وصیت کر جائے اور تہائی مال سے کفارہ اداکر نا وارثوں پر لازم ہوگا اور اوس نے خود وصیت نہ کی اور وارث دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''المبسوط''،للسرخسي،کتاب الأیمان ، باب الصیام،ج ۴ ،الجز ء الثامن، ص ۱۶۶.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۱۶۷.

 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق ، ص ۱۶۸.

4۔۔۔۔۔۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفی الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۴.

5۔۔۔۔۔۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیمایکون...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص ۶۳.

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق ، ص ۶۴.

7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق ، ص ۶۴.
Flag Counter