یعنی اب پاک ہونے کے بعد لگاتار تین روزے رکھے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: روزوں سے کفارہ ادا ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ ختم تک مال پر قدرت نہ ہو یعنی مثلاً اگر دوروزے رکھنے کے بعد اتنا مال مل گیا کہ کفارہ ادا کرے تو اب روزوں سے نہیں ہوسکتابلکہ اگرتیسرا روزہ بھی رکھ لیا ہے اور غروب آفتاب سے پہلے مال پر قادر ہوگیا تو روزے ناکافی ہیں اگرچہ مال پر قادر ہونا یوں ہوا کہ اوس کے مورث (2) کا انتقال ہوگیا اور اوس کو ترکہ اتنا ملے گا جو کفارہ کے لیے کافی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: کفارہ کا روزہ رکھا تھا اور افطار سے پہلے مال پر قادر ہوگیا تو اوس روزے کا پورا کرنا ضروری نہیں ہاں بہتر پورا کرنا ہے اور توڑدے تو قضا ضرور نہیں۔(4) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۲: اپنی مِلک میں مال تھامگر اسے معلوم نہیں یا بھول گیا ہے اور کفارہ میں روزے رکھے بعد میں یاد آیا توکفارہ ادانہ ہوا۔ یوہیں اگر مورث مرگیا اور اسے اوس کے مرنے کی خبر نہیں اور کفارہ میں روزے رکھے بعد کو اوس کا مرنا معلوم ہوا تو کفارہ مال سے ادا کرے۔ (5)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اس کے پاس خود اس وقت مال نہیں ہے مگر اس کا اور وں پر دین ہے تو اگر وصول کرسکتاہے وصول کرکے کفارہ ادا کرے روزے ناکافی ہیں۔ یوہیں اگر عورت کے پاس مال نہیں ہے مگر شوہر پر دَین مہر باقی ہے اور شوہر دَین مہر دینے پر قادر ہے یعنی اگر عورت لینا چاہے تو لے سکتی ہے تو روزوں سے کفارہ نہ ہوگا اور اگر اس کی ملک میں مال ہے مگر غائب ہے، یہاں موجود نہیں ہے تو روزوں سے کفارہ ہوسکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عورت مال سے کفارہ ادا کرنے سے عاجز ہواور روزہ رکھنا چاہتی ہو تو شوہر اوسے روزہ رکھنے سے روک سکتا ہے۔ (7)(جوہرہ)