Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
308 - 466
    مسئلہ ۱۴: رمضان میں اگر کفارہ کا کھانا کھلانا چاہتاہے تو شام اور سحری دونوں وقت کھلائے یا ایک مسکین کو بیس۲۰ دن شام کا کھانا کھلائے۔(1) (جوہرہ) 

    مسئلہ ۱۵: اگر غلام آزاد کرنے یادس۱۰ مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو توپے درپے(2) تین روزے رکھے۔ (3)(عامہ کتب) 

    مسئلہ ۱۶: عاجز ہونا اوس وقت کامعتبر ہے جب کفارہ ادا کرنا چاہتاہے مثلًا جس وقت قسم توڑی تھی اُوس وقت مالدار تھا مگر کفارہ ادا کرنے کے وقت محتاج ہے تو روزہ سے کفارہ ادا کرسکتا ہے اور اگر توڑنے کے وقت مفلس تھا اور اب مالدار ہے تو روزے سے نہیں ادا کرسکتا۔ (4) (جوہرہ وغیرہا)

    مسئلہ ۱۷: اپنا تمام مال ہبہ کردیا اور قبضہ بھی دیدیا اور اوس کے بعد کفارہ کے روزے رکھے پھر ہبہ سے رجوع کی تو کفارہ ادا ہوگیا۔(5) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۸: جب غلام اپنی ملک میں ہے یا اتنا مال رکھتا ہے کہ مساکین کو کھانا یا کپڑا دے سکے اگرچہ خود مقروض یامدیون ہو تو عاجز نہیں یعنی ایسی حالت میں روزے سے کفارہ ادا نہ ہوگا ہاں اگر قرض اور دَین ادا کرنے کے بعد کفارہ کے روزے رکھے تو ہوجائیگا۔ اور مبسوط میں امام سرخسی رحمہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کل مال دَین میں مستغرق(6) ہو تودَین اداکرنے سے پہلے بھی روزہ سے کفارہ اداکرسکتا ہے اور اگر غلام ملک میں ہے مگر اوس کی اِحتیاج(7) ہے تو روزے سے کفارہ ادا نہ ہوگا۔ (8)(جوہرہ) 

    مسئلہ ۱۹: ایک ساتھ تین روزے نہ رکھے یعنی درمیان میں فاصلہ کردیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اگرچہ کسی مجبوری کے سبب ناغہ ہوا ہو یہاں تک کہ عورت کو اگر حیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اعتبار نہ ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان،الجزء الثانی، ص ۲۵۳.

2۔۔۔۔۔۔ لگاتار۔ 

3۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان،الجزء الثانی، ص ۲۵۳.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،وغیرہا.

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،ج۵، ص۵۲۶.

6۔۔۔۔۔۔یعنی ڈوباہوا،گِھراہوا۔

7۔۔۔۔۔۔ضرورت۔

8۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان ،الجزء الثانی، ص۲۵۳.
Flag Counter